Ahadeeth about Arrival of Jesus pbuh (Essa A.S.) and Imam Mahdi

 

صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 708    حدیث متواتر حدیث مرفوع        مکررات  15   متفق علیہ 10

 اسحاق یعقوب بن ابراہیم ان کے والد صالح ابن اشہاب سعید بن مسیب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ عنقریب ابن مریم تمہارے درمیان نازل ہوں گے انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے والے ہوں گے صلیب توڑ ڈالیں گے خنزیر کو قتل کر ڈالیں گے جزیہ ختم کر دیں گے (کیونکہ اس وقت سب مسلمان ہوں گے) اور مال بہتا پھرے گا حتیٰ کہ کوئی اس کا لینے والا نہ ملے گا اس وقت ایک سجدہ دنیا و مافیھا سے بہتر سمجھا جائے گا پھر ابوہریرہ کہتے ہیں اگر اس کی تائید میں تم چاہو تو یہ آیت پڑھو کہ اور کوئی اہل کتاب ایسا نہیں ہوگا جو عیسیٰ کی وفات سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے اور قیامت کے دن عیسیٰ ان پر گواہ ہوں گے۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِکَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيکُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَکَمًا عَدْلًا فَيَکْسِرَ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّی لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ حَتَّی تَکُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَئُوا إِنْ شِئْتُمْ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَکُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا

Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "By Him in Whose Hands my soul is, surely (Jesus,) the son of Mary will soon descend amongst you and will judge mankind justly (as a Just Ruler); he will break the Cross and kill the pigs and there will be no Jizya (i.e. taxation taken from non Muslims). Money will be in abundance so that nobody will accept it, and a single prostration to Allah (in prayer) will be better than the whole world and whatever is in it." Abu Huraira added "If you wish, you can recite (this verse of the Holy Book): -- 'And there is none Of the people of the Scriptures (Jews and Christians) But must believe in him (i.e Jesus as an Apostle of Allah and a human being) Before his death. And on the Day of Judgment He will be a witness Against them." (4.159) (See Fateh Al Bari, Page 302 Vol 7)

………….

 

صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 389    حدیث متواتر حدیث مرفوع        مکررات  15   متفق علیہ 10

 قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابن شہاب، ابن مسیب سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ  سے سنا فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ عنقریب تم لوگوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے شریعت محمدیہ کے مطابق حکم دیں گے اور عدل وانصاف کریں گے صلیب (سولی) توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ کو موقوف کریں گے اور مال بہت دیں گے یہاں تک کہ کوئی مال قبول کرنے والا نہیں رہے گا۔

 

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِکَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيکُمْ ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَکَمًا مُقْسِطًا فَيَکْسِرَ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّی لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ

Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (may peace be upon him) said: By Him in Whose hand is my life, the son of Mary (may peace be upon him) will soon descend among you as a just judge. He will break crosses, kill swine and abolish Jizya and the wealth will pour forth to such an extent that no one will accept it.

……….

صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 390    حدیث متواتر حدیث مرفوع        مکررات  15   متفق علیہ 10

 عبدالاعلی بن حماد، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، حسن حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، صالح زہری سے یہ حدیث بھی اس سند کے ساتھ نقل کی گئی ہے اور ابن عینیہ کی روایت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام انصاف کرنے والے امام اور عدل کرنے والے حکمران ہوں گے اور یونس کی روایت میں ہے کہ عدل کرنے والے حاکم ہوں گے اور اس میں انصاف کرنے والے امام کا ذکر نہیں کیا گیا جیسا کہ لیث نے اپنی روایت میں کہا ہے اور اس میں اتنا زائد ہے کہ اس زمانہ میں ایک سجدہ دنیا ومافیھا سے بہتر ہوگا پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر تم چاہو تو پڑھو (وَاِنَّ مِن اَہلِ الکِتَابِ اِلَّا لَیُومِنَنَّ بِہ قَبلَ مَوتِہ) یعنی کوئی آدمی اہل کتاب میں سے نہیں رہتا مگر وہ اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصدیق ضرور کرتا ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ إِمَامًا مُقْسِطًا وَحَکَمًا عَدْلًا وَفِي رِوَايَةِ يُونُسَ حَکَمًا عَادِلًا وَلَمْ يَذْکُرْ إِمَامًا مُقْسِطًا وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ حَکَمًا مُقْسِطًا کَمَا قَالَ اللَّيْثُ وَفِي حَدِيثِهِ مِنْ الزِّيَادَةِ وَحَتَّی تَکُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ثُمَّ يَقُولُا أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَئُوا إِنْ شِئْتُمْ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ الْآيَةَ

The same hadith is transmitted from Zuhri with the same chain of transmission. But in the tradition narrated by Ibn 'Uyaina the words are:" impartial leader and just judge" and in the tradition narrated by Yunus: the" judge judging with justice" and" impartial leader" are not mentioned. And in the hadith narrated by Salih like the one transmitted by Laith the words are:" impartial judge". And in the hadith transmitted by Ziyad the words are:" Till one sajda is better than the worldand what it contains. Then Abu Huraira used to say," recite" if you like: Not one of the People of the Book will fail to believe in him before his death.

……………

صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 391    حدیث متواتر حدیث مرفوع        مکررات  15   متفق علیہ 10

 قتیبہ بن سعید، لیث، سعید بن ابی سعید، عطاء بن میناء، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم حضرت عیسیٰ ابن مریم ضرور اتریں گے وہ انصاف کرنے والے حاکم ہوں گے وہ صلیب توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ موقوف کریں گے اور جوان اونٹنیاں چھوڑیں گے مگر ان پر کوئی متوجہ نہیں ہوگا یعنی ان سے بار برداری کے لئے کام نہیں لے گا لوگوں کے دلوں سے کینہ بغض اور حسد ختم ہو جائے گا اور وہ لوگوں کو مال کی طرف بلائیں گے مگر کوئی بھی مال قبول نہیں کرے گا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ مِينَائَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَيَنْزِلَنَّ ابْنُ مَرْيَمَ حَکَمًا عَادِلًا فَلَيَکْسِرَنَّ الصَّلِيبَ وَلَيَقْتُلَنَّ الْخِنْزِيرَ وَلَيَضَعَنَّ الْجِزْيَةَ وَلَتُتْرَکَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَی عَلَيْهَا وَلَتَذْهَبَنَّ الشَّحْنَائُ وَالتَّبَاغُضُ وَالتَّحَاسُدُ وَلَيَدْعُوَنَّ إِلَی الْمَالِ فَلَا يَقْبَلُهُ أَحَدٌ

It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger or Allah (may peace be upon him) observed: I swear by Allah that the son of Mary will certainly descend as a just judge and he would definitely break the cross, and kill swine and abolish Jizya and would leave the young she-camel and no one would endeavour to (collect Zakat on it). Spite, mutual hatred and jealousy against one another will certainly disappear and when he summons people to accept wealth, not even one would do so.

…………

 

صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 392    حدیث متواتر حدیث مرفوع        مکررات  15   متفق علیہ 10

 حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، نافع، قتادہ انصاری، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اس وقت کس حال میں ہو گے جب تم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اور تمہارے امام ہوں گے۔

 

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ مَوْلَی أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيکُمْ وَإِمَامُکُمْ مِنْکُمْ

It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace be upon him) observed: What will be your state when the son of Mary descends amongst you and there will be an Imam amongst you?

………….

صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 393    حدیث متواتر حدیث مرفوع        مکررات  15   متفق علیہ 10

 محمد بن حاتم بن میمون، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، نافع، ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں گے اور تمہارے امام بنیں گے۔

 

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ مَوْلَی أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيکُمْ وَأَمَّکُمْ

 

It is narrated on the authority of Abu Huraira that he heard the Messenger of Allah (may peace be upon him) as saying: What would you do when the son of Mary would descend and lead you?

………….

 

صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 394    حدیث متواتر حدیث مرفوع        مکررات  15   متفق علیہ 10

 زہیر بن حرب، ولید بن مسلم، ابن ابی ذنب، ابن شہاب، نافع، ابوقتادہ، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے تم ہی میں سے تمہارے امام بنیں گے ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تمہارا امام تم ہی میں سے بنے گا ابن ابی ذئب نے کہا کہ کیا تم جانتے ہو کہ تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا اس کا کیا مطلب ہے میں نے عرض کیا کہ مجھے بتائیے، آپ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ تمہارے رب کی کتاب اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ تمہاری امامت کریں گے (وہ اس کے مطابق فیصلے کریں گے)۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ فِيکُمْ ابْنُ مَرْيَمَ فَأَمَّکُمْ مِنْکُمْ فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي ذِئْبٍ إِنَّ الْأَوْزَاعِيَّ حَدَّثَنَا عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَإِمَامُکُمْ مِنْکُمْ قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ تَدْرِي مَا أَمَّکُمْ مِنْکُمْ قُلْتُ تُخْبِرُنِي قَالَ فَأَمَّکُمْ بِکِتَابِ رَبِّکُمْ تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَسُنَّةِ نَبِيِّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace be upon him) observed: What would you do when the son of Mary would descend amongst you and would lead you as one amongst you? Ibn Abi Dhi'b on the authority of Abu Huraira narrated: Your leader amongst you. Ibn Abi Dhi'b said: Do you know what the words:" He would lead as one amongst you" mean? I said: Explain these to me. He said: He would lead you according to the Book of your: Lord (hallowed be He and most exalted) and the Sunnah of your Apostle (may peace be upon him).

…………

صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 395    حدیث متواتر حدیث مرفوع        مکررات  2   متفق علیہ 1

 ولید بن شجاع، ہارون بن عبد اللہ، حجاج بن شاعر، ابن محمد، ابن جریج، ابوزبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کی خاطر لڑتا رہے گا اور قیامت تک غالب رہے گا اور فرمایا کہ پھر حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اتریں گے لوگوں کا امیر ان سے نماز پڑھانے کے لے عرض کرے گا آپ علیہ السلام فرمائیں گے کہ نہیں بلکہ تم ایک دوسرے پر امیر ہو یہ وہ اعزاز ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس امت کو عطا فرمایا ہے۔

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالُوا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ فَيَنْزِلُ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ تَعَالَ صَلِّ لَنَا فَيَقُولُ لَا إِنَّ بَعْضَکُمْ عَلَی بَعْضٍ أُمَرَائُ تَکْرِمَةَ اللَّهِ هَذِهِ الْأُمَّةَ

 

Jabir b. 'Abdullah reported: I heard the Messenger of Allah (may peace be upon him) say: A section of my people will not cease fighting for the Truth and will prevail till the Day of Resurrection. He said: Jesus son of Mary would then descend and their (Muslims') commander would invite him to come and lead them in prayer, but he would say: No, some amongst you are commanders over some (amongst you). This is the honour from Allah for this Ummah.

………..

 

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2777          حدیث مرفوع      مکررات  2   متفق علیہ 1

 زہیر بن حرب، معلی بن منصور سلیمان بن بلال سہیل حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ رومی اعماق یا دابق میں اتریں ان کی طرف ان سے لڑنے کے لئے ایک لشکر مدینہ روانہ ہوگا اور وہ ان دنوں زمین والوں میں سے نیک لوگ ہوں گے جب وہ صف بندی کریں گے تو رومی کہیں گے کہ تم ہمارے اور ان کے درمیان دخل اندازی نہ کرو جنہوں نے ہم میں سے کچھ لوگوں کو قیدی بنا لیا ہے ہم ان سے لڑیں گے مسلمان کہیں گے نہیں اللہ کی قسم ہم اپنے بھائیوں کو تنہا نہ چھوڑیں گے کہ تم ان سے لڑتے رہو بالآخر وہ ان سے لڑائی کریں گے بالآخر ایک تہائی مسلمان بھاگ جائیں گے جن کی اللہ کبھی بھی توبہ قبول نہ کرے گا اور ایک تہائی قتل کئے جائیں گے جو اللہ کے نزدیک افضل الشہداء ہوں گے اور تہائی فتح حاصل کرلیں گے انہیں کبھی آزمائش میں نہ ڈالا جائے گا پس وہ قسطنطنیہ کو فتح کریں گے جس وقت وہ آپس میں مال غنیمت میں سے تقسیم کر رہے ہوں اور ان کی تلواریں زیتون کے درختوں کے ساتھ لٹکی ہوئی ہوں گی تو اچانک شیطان چیخ کر کہے گا تحقیق مسیح دجال تمہارے بال بچوں تک پہنچ چکا ہے وہ وہاں سے نکل کھڑے ہوں گے لیکں یہ خبر باطل ہوگی جب وہ شام پہنچیں گے تو اس وقت دجال نکلے گا اسی دوران کہ وہ جہاد کے لئے تیاری کر رہے ہوں گے اور صفوں کو سیدھا کررہے ہوں گے کہ نماز کے لئے اقامت کہی جائے گی اور عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے اور مسلمانوں کی نماز کی امامت کریں گے پس جب اللہ کا دشمن انہیں دیکھے گا تو وہ اس طرح پگھل جائے گا جس طرح پانی میں نمک پگھل جاتا ہے اگرچہ عیسیٰ اسے چھوڑ دیں گے تب بھی وہ پگھل جائے گا یہاں تک کہ ہلاک ہو جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ اسے عیسیٰ کے ہاتھوں سے قتل کرائیں گے پھر وہ لوگوں کو اس کا خون اپنے نیزے پر دکھائیں گے۔

 

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی يَنْزِلَ الرُّومُ بِالْأَعْمَاقِ أَوْ بِدَابِقٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنْ الْمَدِينَةِ مِنْ خِيَارِ أَهْلِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ فَإِذَا تَصَافُّوا قَالَتْ الرُّومُ خَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الَّذِينَ سَبَوْا مِنَّا نُقَاتِلْهُمْ فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ لَا وَاللَّهِ لَا نُخَلِّي بَيْنَکُمْ وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا فَيُقَاتِلُونَهُمْ فَيَنْهَزِمُ ثُلُثٌ لَا يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَبَدًا وَيُقْتَلُ ثُلُثُهُمْ أَفْضَلُ الشُّهَدَائِ عِنْدَ اللَّهِ وَيَفْتَتِحُ الثُّلُثُ لَا يُفْتَنُونَ أَبَدًا فَيَفْتَتِحُونَ قُسْطَنْطِينِيَّةَ فَبَيْنَمَا هُمْ يَقْتَسِمُونَ الْغَنَائِمَ قَدْ عَلَّقُوا سُيُوفَهُمْ بِالزَّيْتُونِ إِذْ صَاحَ فِيهِمْ الشَّيْطَانُ إِنَّ الْمَسِيحَ قَدْ خَلَفَکُمْ فِي أَهْلِيکُمْ فَيَخْرُجُونَ وَذَلِکَ بَاطِلٌ فَإِذَا جَائُوا الشَّأْمَ خَرَجَ فَبَيْنَمَا هُمْ يُعِدُّونَ لِلْقِتَالِ يُسَوُّونَ الصُّفُوفَ إِذْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَيَنْزِلُ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّهُمْ فَإِذَا رَآهُ عَدُوُّ اللَّهِ ذَابَ کَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَائِ فَلَوْ تَرَکَهُ لَانْذَابَ حَتَّی يَهْلِکَ وَلَکِنْ يَقْتُلُهُ اللَّهُ بِيَدِهِ فَيُرِيهِمْ دَمَهُ فِي حَرْبَتِهِ

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: The Last Hour would not come until the Romans would land at al-A'maq or in Dabiq. An army consisting of the best (soldiers) of the people of the earth at that time will come from Medina (to counteract them). When they will arrange themselves in ranks, the Romans would say: Do not stand between us and those (Muslims) who took prisoners from amongst us. Let us fight with them; and the Muslims would say: Nay, by Allah, we would never get aside from you and from our brethren that you may fight them. They will then fight and a third (part) of the army would run away, whom Allah will never forgive. A third (part of the army) which would be constituted of excellent martyrs in Allah's eye, would be killed and the third who would never be put to trial would win and they would be conquerors of Constantinople. And as they would be busy in distributing the spoils of war (amongst themselves) after hanging their swords by the olive trees, the Satan would cry: The Dajjal has taken your place among your family. They would then come out, but it would be of no avail. And when they would come to Syria, he would come out while they would be still preparing themselves for battle drawing up the ranks. Certainly, the time of prayer shall come and then Jesus (peace be upon him) son of Mary would descend and would lead them in prayer. When the enemy of Allah would see him, it would (disappear) just as the salt dissolves itself in water and if he (Jesus) were not to confront them at all, even then it would dissolve completely, but Allah would kill them by his hand and he would show them their blood on his lance (the lance of Jesus Christ).

………..

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2784    حدیث متواتر حدیث مرفوع         مکررات  15   متفق علیہ 4

 ابوخیثمہ زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر مکی زہیر اسحاق سفیان بن عیینہ، ابوطفیل حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہم باہم گفتگو کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کس بات کا تذکرہ کر رہے ہو انہوں نے عرض کیا ہم قیامت کا تذکرہ کر رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ہرگز قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم اس سے پہلے دس علامات دیکھ لوگے پھر دھوئیں، دجال، دابة الارض ،سورج کے مغرب سے طلوع ہونے اور سیدنا عیسیٰ بن مریم کے نازل ہونے اور یاجوج وماجوج اور تین جہگوں کے دھنسنے، ایک دھنسنا مشرق میں اور ایک دھنسنا مغرب میں ،ایک دھنسنا جزیرہ العرب میں ہونے اور آخر میں یمن سے آگ نکلنے کا ذکر فرمایا جو لوگوں کو جمع ہونے کی جگہ کی طرف لے جائے گی۔

حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ اطَّلَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاکَرُ فَقَالَ مَا تَذَاکَرُونَ قَالُوا نَذْکُرُ السَّاعَةَ قَالَ إِنَّهَا لَنْ تَقُومَ حَتَّی تَرَوْنَ قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ فَذَکَرَ الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ وَالدَّابَّةَ وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَنُزُولَ عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَأَجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذَلِکَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ الْيَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَی مَحْشَرِهِمْ

 

Hudhaifa b. Usaid Ghifari reported: Allah's Messenger (may peace be upon him) came to us all of a sudden as we were (busy in a discussion). He said: What do you discuss about? They (the Companions) said. We are discussing about the Last Hour. Thereupon he said: It will not come until you see ten signs before and (in this connection) he made a mention of the smoke, Dajjal, the beast, the rising of the sun from the west, the descent of Jesus, son of Mary (Allah be pleased with him), the Gog and Magog, and land-slidings in three places, one in the east, one in the west and one in Arabia at the end of which fire would burn forth from the Yemen, and would drive people to the place of their assembly.

……….

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2785  حدیث متواتر حدیث مرفوع           مکررات  15   متفق علیہ 4

  عبیداللہ بن معاذ عنبری ابوشعبہ، ابی طفیل حضرت ابوسریحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حذیفہ بن اسید سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک کمرہ میں تھے اور ہم آپ سے نیچے تھے پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے تو فرمایا تم کس چیز کا ذکر کر رہے ہو ہم نے عرض کیا قیامت کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک دس علامات پوری نہ ہوجائیں گی مشرق میں دھنسنا اور مغرب میں دھنسنا اور ایک دھنسنا جزیرہ العرب میں ہوگا اور دھواں، دجال، دابة الارض ،یاجوج ماجوج ،سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور آگ جو عدن کے کنارے سے نکلے گی جو لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی دوسری سند ذکر کی ہے اس میں یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں اور ان میں سے ایک نے دسویں علامت کے بارے میں کہا کہ وہ عیسیٰ بن مریم کا نزول ہے اور دوسرے نے کہا وہ آندھی ہے جو لوگوں کو سمندر میں ڈال دے گی۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَةٍ وَنَحْنُ أَسْفَلَ مِنْهُ فَاطَّلَعَ إِلَيْنَا فَقَالَ مَا تَذْکُرُونَ قُلْنَا السَّاعَةَ قَالَ إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَکُونُ حَتَّی تَکُونَ عَشْرُ آيَاتٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَالدُّخَانُ وَالدَّجَّالُ وَدَابَّةُ الْأَرْضِ وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قُعْرَةِ عَدَنٍ تَرْحَلُ النَّاسَ قَالَ شُعْبَةُ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ مِثْلَ ذَلِکَ لَا يَذْکُرُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ أَحَدُهُمَا فِي الْعَاشِرَةِ نُزُولُ عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ الْآخَرُ وَرِيحٌ تُلْقِي النَّاسَ فِي الْبَحْرِ

Hudhaifa b. Usaid reported: Allah's Apostle (may peace be upon him) was in an apartment and we were beneath that that he peeped in and said to us: What are you discussing about? We said: We are discussing about the Last Hour. Thereupon he said: The Last Hour would not come until the ten signs appear: land-sliding in the east, and land-sliding in the west, and land-sliding in the peninsula of Arabia, the smoke, the Dajjal, the beast of the earth, Gog and Magog, the rising of the sun from the west and the fire which would emit from the lower part of 'Adan. Shu'ba said that 'Abd al-'Aziz b. Rufai' reported on the authority of Abu Tufail who reported on the authority of Abu Sariha a hadith like this that Allah's Apostle (may peace be upon him) did not make a mention of (the tenth sign) but he said that out of the ten one was the descent of Jesus Christ, son of Mary (peace be upon him), and in another version it is the blowing of the violent gale which would drive the people to the ocean.

…………

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2786    حدیث متواتر حدیث مرفوع         مکررات  15   متفق علیہ 4

 محمد بن بشار، محمد بن جعفر شعبہ، ابوطفیل حضرت ابوسریحہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کمرہ میں تھے اور ہم اس کے نیچے گفتگو کر رہے تھے باقی حدیث اسی طرح ہے جیسے گزر چکی شعبہ نے کہا میرا گمان ہے کہ انہوں نے کہا آگ لوگوں کے ساتھ ساتھ رہے گی جہاں وہ اتریں گے آگ بھی وہیں اتر جائے گیا اور جب وہ (دوپہر کو) قیلولہ کریں گے تو آگ بھی وہیں ہوگی جہاں وہ قیلولہ کریں گے شعبہ نے کہا ایک آدمی نے مجھ سے یہ حدیث ابوطفیل کے واسطہ سے ابوسریحہ سے نقل کی لیکن مرفوع ہونا روایت نہیں کیا ان میں سے ایک آدمی نے حضرت عیسیٰ بن مریم کا نزول اور دوسرے نے آندھی کا ذکر کیا جو انہیں سمندر میں ڈال دے گی۔

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فُرَاتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَةٍ وَنَحْنُ تَحْتَهَا نَتَحَدَّثُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ تَنْزِلُ مَعَهُمْ إِذَا نَزَلُوا وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا قَالَ شُعْبَةُ وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ قَالَ أَحَدُ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ نُزُولُ عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ و قَالَ الْآخَرُ رِيحٌ تُلْقِيهِمْ فِي الْبَحْرِ

 

Abu Sariha reported: Allah's Messenger (may peace be upon him) was in an (upper) apartment and we were standing lower to him and discussing (about the Last Hour). The rest of the hadith is the same, and Shu'ba said: I think he also said these words: The fire would descend along with them where they would land and where they would take rest (during midday (it would also cool down for a while). Shu'ba said: This hadith has been transmitted to me through Abu Tufail and Abu Sariha and none could trace it back directly to Allah's Apostle (may peace be upon him). However, there is a mention of the descent of Jesus Christ son of Mary in one version and in the other there is a mention of the blowing of a violent wind that would drive them to the ocean.

……….

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2872    حدیث قدسی حدیث متواتر          مکررات  11   متفق علیہ 3

 ابوخیثمہ زہیر بن حرب، ولید بن مسلم، عبدالرحمن بن یزید بن جابر، یحیی بن جا رب طائی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت نو اس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن سمعان سے روایت ہے کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نے کبھی تحقیر کی(یعنی گھٹایا) اور کبھی بڑا کر کے بیان فرمایا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ کھجوروں کے ایک جھنڈ میں ہے پس جب ہم شام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس بارے میں معلوم کرلیا تو فرمایا تمہارا کیا حال ہے؟ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح دجال کا ذکر کیا اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی تحقیر کی اور کبھی اس فتنہ کو بڑا کر کے بیان کیا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ کھجوروں کے ایک جھنڈ میں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے بارے میں دجال کے علاوہ دوسرے فتنوں کا زیادہ خوف کرتا ہوں اگر وہ میری موجودگی میں ظاہر ہوگیا تو تمہارے بجائے میں اس کا مقابلہ کروں گا اور اگر میری غیر موجودگی میں ظاہر ہوا تو ہر شخص خود اس سے مقابلہ کرنے والا ہوگا اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ اور نگہبان ہوگا بے شک دجال نوجوان گھنگریالے بالوں والا اور پھولی ہوئی آنکھ والا ہوگا گویا کہ میں اسے عبدالعزی بن قطن کے ساتھ تشبیہ دیتا ہوں پس تم میں سے جو کوئی اسے پالے تو چاہئے کہ اس پر سورت کہف کی ابتدائی آیات کی تلاوت کرے بے شک اس کا خروج شام اور عراق کے درمیان سے ہوگا پھر وہ اپنے دائیں اور بائیں جانب فساد برپا کرے گا اے اللہ کے بندو ثابت قدم رہنا ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ زمین میں کتنا عرصہ رہے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چالیس دن اور ایک دن سال کے برابر اور ایک دن مہینہ کے برابر اور ایک دن ہفتہ کے برابر ہوگا اور باقی ایام تمہارے عام دنوں کے برابر ہوں گے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ دن جو سال کے برابر ہوگا کیا اس میں ہمارے لئے ایک دن کی نمازیں پڑھنا کافی ہوں گیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ تم ایک سال کی نمازوں کا اندازہ کرلینا ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس کی زمین میں چلنے کی تیزی کیا ہوگی آپ نے فرمایا اس بادل کی طرح جسے پیچھے سے ہوا دھکیل رہی ہو پس وہ ایک قوم کے پاس آئے گا اور انہیں دعوت دے گا تو وہ اس پر ایمان لے آئیں گے اور اس کی دعوت قبول کرلیں گے پھر وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ بارش برسائے گا اور زمین سبزہ اگائے گی اور اسے چرنے والے جانور شام کے وقت آئیں گے تو ان کے کوہان پہلے سے لمبے تھن بڑے اور کو کھیں تنی ہوئی ہوں گی پھر وہ ایک اور قوم کے پاس جائے گا اور انہیں دعوت دے گا وہ اس کے قول کو رد کر دیں گے تو وہ اس سے واپس لوٹ آئے گا پس وہ قحط زدہ ہو جائیں گے کہ ان کے پاس دن کے مالوں میں سے کچھ بھی نہ رہے گا اور اسے کہے گا کہ اپنے خزانے کو نکال دے تو زمین کے خزانے اس کے پاس آئیں گے۔جیسے شہد کی مکھیاں اپنے سرداروں کے پاس آتی ہیں، پھر وہ ایک کڑیل اور کامل الشباب آدمی کو بلائے گا اور اسے تلوار مار کر اس کے دو ٹکڑے کردے گا اور دونوں ٹکڑوں کو علیحدہ علیحدہ کر کے ایک تیر کی مسافت پر رکھ دے گا، پھر وہ اس (مردہ) کو آواز دے گا تو وہ زندہ ہوکر چمکتے ہوئے چہرے کے ساتھ ہنستا ہوا آئے گا۔ دجال کے اسی افعال کے دوران اللہ تعالی عیسی بن مریم علیہما السلام کو بھیجے گا، وہ دمشق کے مشرق میں سفید منارے کے پاس زرد رنگ کے حلے پہنے ہوئے دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے جب وہ اپنے سر کو جھکائیں گے تو اس سے قطرے گریں گے اور جب اپنے سر کو اٹھائیں گے تو اس سے سفید موتیوں کی طرح قطرے ٹپکیں گے اور جو کافر بھی ان کی خوشبو سونگھے گا وہ مرے بغیر رہ نہ سکے گا اور ان کی خوشبو وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نظر جائے گی۔ پس حضرت مسیح علیہ السلام (دجال کو) طلب کریں گے ، اسے باب لد پر پائیں گے تو اسے قتل کردیں گے ، پھر عیسی بن مریم علیہما السلام کے پاس وہ قوم آئے گی جسے اللہ نے دجال سے محفوظ رکھا تھا، پس عیسی علیہ السلام ان کے چہروں کو صاف کریں گے اور انہیں جنت میں ملنے والے ان کے درجات بتائیں گے ۔ پس اسی دوران حضرت عیسی علیہ السلام پر اللہ رب العزت وحی نازل فرمائٰں گے کہ تحقیق میں نے اپنے ایسے بندوں کو نکالا ہے کہ کسی کو ان کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں۔ پس آپ میرے بندوں کو حفاظت کے لیے طور کی طرف لے جائیں اور اللہ تعالی یاجوج ماجوج کو بھیجے گا اور وہ ہر اونچائی سے نکل پڑیں گے ، ان کی اگلی جماعتیں بحیرہ طبری پر سے گزریں گی اور اس کا سارا پانی پی جائٰیں گے اور ان کی آخری جماعتیں گزریں گی تو کہیں گی کہ اس جگہ کسی وقت پانی موجود تھا اور اللہ کے نبی عیسی علیہ السلام اور ان کے ساتھ محصور ہوجائیں گے ، یہاں تک کہ ان میں کسی ایک کے لیے بیل کی سری بھی تم میں سے کسی ایک کے لیے آج کل کے سو دینار سے افضل و بہتر ہوگی۔ پھر اللہ کے نبی عیسی علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالی یاجوج ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کرے گا، وہ ایک جان کی موت کی طرح سب کے سب یک لخت مرجائیں گے ، پھر اللہ کے نبی عیسی علیہ السلام اور ان کے ساتھی زمین کی طرف اتریں گے تو زمین میں ایک بالشت کی جگہ بھی یاجوج ماجوج کی علامات اور بدبو سے انہیں خالی نہ ملے گی ۔پھر اللہ کے نبی عیسی علیہ السلام اور ان کے ساتھی دعا کریں گے تو اللہ تعالی بختی اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے بھیجیں گے جو انہیں اٹھا کر لے جائیں گے اور جہاں اللہ چاہے وہ انہیں پھینک دیں گے پھر اللہ تعالی بارش بھیجے گا جس سے ہر مکان خواہ وہ مٹی کا ہو یا بالوں کا آئینہ کی طرح صاف ہوجائے گا اور زمین مثل باغ یا حوض کے دھل جائے گی ۔ پھر زمین سے کہا جائے گا: اپنے پھل کو اگا دے اور اپنی برکت کو لوٹا دے ، پس ان دنوں ایسی برکت ہوگی کہ ایک انار کو ایک پوری جماعت کھائے گی اور اس کے چھلکے میں سایہ حاصل کرے گی اور دودھ میں اتنی برکت دے دی جائے گی کہ ایک دودھ دینے والی گائے قبیلہ کے لوگوں کے لیے کافی ہوجائے گی اور ایک دودھ دینے والی اونٹنی ایک بڑی جماعت کے لیے کافی ہوگی اور ایک دودھ دینے والی بکری پوری گھرانے کے لیے کفایت کرجائے گی ، اسی دوران اللہ تعالی ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو لوگوں کی بغلوں کے نیچے تک پہنچ جاءے گی ، پھر ہر مسلمان اور ہر مومن کی روح قبض کرلی جائے گی اور بد لوگ ہی باقی رہ جائیں گے ، جو گدھوں کی طرح کھلے بندوں جماع کریں گے ، پس انہیں پر قیامت قائم ہوگی۔

حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ قَاضِي حِمْصَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْکِلَابِيَّ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ ذَکَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالَ ذَاتَ غَدَاةٍ فَخَفَّضَ فِيهِ وَرَفَّعَ حَتَّی ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ فَلَمَّا رُحْنَا إِلَيْهِ عَرَفَ ذَلِکَ فِينَا فَقَالَ مَا شَأْنُکُمْ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَکَرْتَ الدَّجَّالَ غَدَاةً فَخَفَّضْتَ فِيهِ وَرَفَّعْتَ حَتَّی ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ فَقَالَ غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَيْکُمْ إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيکُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَکُمْ وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيکُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ عَيْنُهُ طَافِئَةٌ کَأَنِّي أُشَبِّهُهُ بِعَبْدِ الْعُزَّی بْنِ قَطَنٍ فَمَنْ أَدْرَکَهُ مِنْکُمْ فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ فَوَاتِحَ سُورَةِ الْکَهْفِ إِنَّهُ خَارِجٌ خَلَّةً بَيْنَ الشَّأْمِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَعَاثَ شِمَالًا يَا عِبَادَ اللَّهِ فَاثْبُتُوا قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا لَبْثُهُ فِي الْأَرْضِ قَالَ أَرْبَعُونَ يَوْمًا يَوْمٌ کَسَنَةٍ وَيَوْمٌ کَشَهْرٍ وَيَوْمٌ کَجُمُعَةٍ وَسَائِرُ أَيَّامِهِ کَأَيَّامِکُمْ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَلِکَ الْيَوْمُ الَّذِي کَسَنَةٍ أَتَکْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ قَالَ لَا اقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الْأَرْضِ قَالَ کَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ فَيَأْتِي عَلَی الْقَوْمِ فَيَدْعُوهُمْ فَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ فَيَأْمُرُ السَّمَائَ فَتُمْطِرُ وَالْأَرْضَ فَتُنْبِتُ فَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ أَطْوَلَ مَا کَانَتْ ذُرًا وَأَسْبَغَهُ ضُرُوعًا وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ ثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ فَيُصْبِحُونَ مُمْحِلِينَ لَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْئٌ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَيَمُرُّ بِالْخَرِبَةِ فَيَقُولُ لَهَا أَخْرِجِي کُنُوزَکِ فَتَتْبَعُهُ کُنُوزُهَا کَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ ثُمَّ يَدْعُو رَجُلًا مُمْتَلِئًا شَبَابًا فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جَزْلَتَيْنِ رَمْيَةَ الْغَرَضِ ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ وَيَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَضْحَکُ فَبَيْنَمَا هُوَ کَذَلِکَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَائِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ وَاضِعًا کَفَّيْهِ عَلَی أَجْنِحَةِ مَلَکَيْنِ إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَانٌ کَاللُّؤْلُؤِ فَلَا يَحِلُّ لِکَافِرٍ يَجِدُ رِيحَ نَفَسِهِ إِلَّا مَاتَ وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرْفُهُ فَيَطْلُبُهُ حَتَّی يُدْرِکَهُ بِبَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يَأْتِي عِيسَی ابْنَ مَرْيَمَ قَوْمٌ قَدْ عَصَمَهُمْ اللَّهُ مِنْهُ فَيَمْسَحُ عَنْ وُجُوهِهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ فَبَيْنَمَا هُوَ کَذَلِکَ إِذْ أَوْحَی اللَّهُ إِلَی عِيسَی إِنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا لِي لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ فَحَرِّزْ عِبَادِي إِلَی الطُّورِ وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَهُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ فَيَمُرُّ أَوَائِلُهُمْ عَلَی بُحَيْرَةِ طَبَرِيَّةَ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهَا وَيَمُرُّ آخِرُهُمْ فَيَقُولُونَ لَقَدْ کَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَائٌ وَيُحْصَرُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَی وَأَصْحَابُهُ حَتَّی يَکُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ لِأَحَدِهِمْ خَيْرًا مِنْ مِائَةِ دِينَارٍ لِأَحَدِکُمْ الْيَوْمَ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَی وَأَصْحَابُهُ فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَی کَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ يَهْبِطُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَی وَأَصْحَابُهُ إِلَی الْأَرْضِ فَلَا يَجِدُونَ فِي الْأَرْضِ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلَّا مَلَأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتْنُهُمْ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَی وَأَصْحَابُهُ إِلَی اللَّهِ فَيُرْسِلُ اللَّهُ طَيْرًا کَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَائَ اللَّهُ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا لَا يَکُنُّ مِنْهُ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ حَتَّی يَتْرُکَهَا کَالزَّلَفَةِ ثُمَّ يُقَالُ لِلْأَرْضِ أَنْبِتِي ثَمَرَتَکِ وَرُدِّي بَرَکَتَکِ فَيَوْمَئِذٍ تَأْکُلُ الْعِصَابَةُ مِنْ الرُّمَّانَةِ وَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا وَيُبَارَکُ فِي الرِّسْلِ حَتَّی أَنَّ اللِّقْحَةَ مِنْ الْإِبِلِ لَتَکْفِي الْفِئَامَ مِنْ النَّاسِ وَاللِّقْحَةَ مِنْ الْبَقَرِ لَتَکْفِي الْقَبِيلَةَ مِنْ النَّاسِ وَاللِّقْحَةَ مِنْ الْغَنَمِ لَتَکْفِي الْفَخِذَ مِنْ النَّاسِ فَبَيْنَمَا هُمْ کَذَلِکَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً فَتَأْخُذُهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ فَتَقْبِضُ رُوحَ کُلِّ مُؤْمِنٍ وَکُلِّ مُسْلِمٍ وَيَبْقَی شِرَارُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ فِيهَا تَهَارُجَ الْحُمُرِ فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ

An-Nawwas b. Sam'an reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) made a mention of the Dajjal one day in the morning. He sometimes described him to be insignificant and sometimes described (his turmoil) as very significant and we felt as if he were in the cluster of the date-palm trees. When we went to him (to the Holy Prophet) in the evening and he read (the signs of fear) in our faces, he said: What is the matter with you? We said: Allah's Messenger, you made a mention of the Dajjal in the morning (sometimes describing him) to be insignificant and sometimes very important, until we began to think as if he were present in some (near) part of the cluster of the datepalm trees. Thereupon he said: I harbour fear in regard to you in so many other things besides the Dajjal. If he comes forth while I am among you, I shall contend with him on your behalf, but if he comes forth while I am not amongst you, a man must contend on his own behalf and Allah would take care of every Muslim on my behalf (and safeguard him against his evil). He (Dajjal) would be a young man with twisted, contracted hair, and a blind eye. I compare him to 'Abd-ul-'Uzza b. Qatan. He who amongst you would survive to see him should recite over him the opening verses of Sura Kahf (xviii.). He would appear on the way between Syria and Iraq and would spread mischief right and left. O servant of Allah! adhere (to the path of Truth). We said: Allah's Messenger, how long would he stay on the earth? He said.. For forty days, one day like a year and one day like a month and one day like a week and the rest of the days would be like your days. We said: Allah's Messenger, would one day's prayer suffice for the prayers of day equal to one year? Thereupon he said: No, but you must make an estimate of time (and then observe prayer). We said: Allah's Messenger, how quickly would he walk upon the earth? Thereupon he said: Like cloud driven by the wind. He would come to the people and invite them (to a wrong religion) and they would affirm their faith in him and respond to him. He would then give command to the sky and there would be rainfall upon the earth and it would grow crops. Then in the evening, their posturing animals would come to them with their humps very high and their udders full of milk and their flanks stretched. He would then come to another people and invite them. But they would reject him and he would go away from them and there would be drought for them and nothing would be left with them in the form of wealth.

He would then walk through the wasteland and say to it: Bring forth your treasures, and the treasures would come out and collect (themselves) before him like the swarm of bees. He would then call a person brimming with youth and strike him with the sword and cut him into two pieces and (make these pieces lie at a distance which is generally) between the archer and his target. He would then call (that young man) and he will come forward laughing with his face gleaming (with happiness) and it would at this very time that Allah would send Christ, son of Mary, and he will descend at the white minaret in the eastern side of Damscus wearing two garments lightly dyed with saffron and placing his hands on the wings of two Angels. When he would lower his head, there would fall beads of perspiration from his head, and when he would raise it up, beads like pearls would scatter from it. Every non-believer who would smell the odour of his self would die and his breath would reach as far as he would be able to see. He would then search for him (Dajjal) until he would catch hold of him at the gate of Ludd and would kill him. Then a people whom Allah had protected would come to Jesus, son of Mary, and he would wipe their faces and would inform them of their ranks in Paradise and it would be under such conditions that Allah would reveal to Jesus these words: I have brought forth from amongst My servants such people against whom none would be able to fight; you take these people safely to Tur, and then Allah would send Gog and Magog and they would swarm down from every slope. The first of them would pass the lake of Tibering and drink out of it. And when the last of them would pass, he would say: There was once water there. Jesus and his companions would then be besieged here (at Tur, and they would be so much hard pressed) that the head of the ox would be dearer to them than one hundred dinars and Allah's Apostle, Jesus, and his companions would supplicate Allah, Who would send to them insects (which would attack their necks) and in the morning they would perish like one single person. Allah's Apostle, Jesus, and his companions would then come down to the earth and they would not find in the earth as much space as a single span which is not filled with their putrefaction and stench. Allah's Apostle, Jesus, and his companions would then again beseech Allah, Who would send birds whose necks would be like those of bactrin camels and they would carry them and throw them where God would will.

Then Allah would send rain which no house of clay or (the tent of) camels' hairs would keep out and it would wash away the earth until it could appear to be a mirror. Then the earth would be told to bring forth its fruit and restore its blessing and, as a result thereof, there would grow (such a big) pomegranate that a group of persons would be able to eat that, and seek shelter under its skin and milch cow would give so much milk that a whole party would be able to drink it. And the milch camel would give such (a large quantity of) milk that the whole tribe would be able to drink out of that and the milch sheep would give so much milk that the whole family would be able to drink out of that and at that time Allah would send a pleasant wind which would soothe (people) even under their armpits, and would take the life of every Muslim and only the wicked would survive who would commit adultery like asses and the Last Hour would come to them.

………

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2880        حدیث متواتر حدیث مرفوع    مکررات  3   متفق علیہ 2

  عبیداللہ بن معاذ شعبہ، نعمان بن سالم حضرت یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے سنا اور ان کے پاس ایک آدمی نے آکر عرض کیا یہ حدیث کیسے ہے جسے آپ روایت کرتے ہیں کہ قیامت اس اس طرح قائم ہوگی انہوں نے کہا سُبْحَانَ اللَّهِ یا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ یا اسی طرح کا کوئی اور کلمہ کہا کہ میں نے پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ میں کسی سے بھی کبھی کوئی حدیث روایت نہ کروں گا میں نے تو یہ کہا تھا : عنقریب تھوڑی ہی مدت کے بعد ایک بہت بڑا حادثہ دیکھو گے جو گھر کو جلادے گا اور جو ہونا ہے وہ ضرور ہوگا پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال میری امت میں خروج کرے گا اور ان میں چالیس دن ٹھہرے گا اور میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ بن مریم کو بھیجے گا گویا کہ وہ عروہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں(یعنی اُن کے مشابہ ہوں گے) تو وہ تلاش کر کے دجال کو قتل کردیں گے پھر لوگ سات سال اسی طرح گزاریں گے کہ کسی بھی دو اشخاص کے درمیان کوئی عداوت نہ ہوگی پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا جس سے زمین پر کوئی بھی ایسا آدمی باقی نہیں رہے گا کہ اس کی روح قبض کرلی جائے گی جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی بھلائی یا ایمان ہوگا یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی پہاڑ کے اندر داخل ہوگیا تو وہ اس میں اس تک پہنچ کر اسے قبض کر کے ہی چھوڑے گی اسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا پھر برے لوگ ہی باقی رہ جائیں گے جو چڑیوں کی طرح جلد باز اور بے عقل درندہ صفت ہوں گے وہ کسی نیکی کو نہ پہچانیں گے اور نہ برائی کو برائی تصور کریں گے ان کے پاس شیطان کسی بھیس میں آئے گا تو وہ کہے گا کیا تم میری بات نہیں مانتے تو وہ کہیں گے کہ تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے تو شیطان انہیں بتوں کی پوجا کرنے کا حکم دے گا اور وہ اسی بت پرستی میں ڈوبے ہوئے ہوں گے ان کا رزق اچھا ہوگا اور ان کی زندگی عیش وعشرت کی ہوگی پھر صور پھونکا جائے گا جو بھی اس کی آواز سنے گا وہ اپنی گردن کو ایک مرتبہ ایک طرف جھکائے گا اور دوسری طرف سے اٹھا لے گا اور جو شخص سب سے پہلے صور کی آواز سنے گا وہ اپنے اونٹوں کا حوض درست کر رہا ہوگا وہ بے ہوش ہو جائے گا اور دوسرے لوگ بھی بے ہوش ہو جائیں گے پھر اللہ بھیجے گا یا اللہ شبنم کی طرح بارش نازل کرے گا جس سے لوگوں کے جسم اگ پڑیں گے پھر صور میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور دیکھتے ہوں گے پھر کہا جائے گا اے لوگو اپنے رب کی طرف آؤ اور ان کو کھڑا کرو ان سے سوال کیا جائے گا پھر کہا جائے گا دوزخ کے لئے ایک جماعت نکالو تو کہا جائے گا کتنے لوگوں کی جماعت کہا جائے گا ہر ہزار سے نو سو ننانوے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ دن ہے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا اور اس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ قَالَ سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو وَجَائَهُ رَجُلٌ فَقَالَ مَا هَذَا الْحَدِيثُ الَّذِي تُحَدِّثُ بِهِ تَقُولُ إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَی کَذَا وَکَذَا فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ أَوْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَوْ کَلِمَةً نَحْوَهُمَا لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَ أَحَدًا شَيْئًا أَبَدًا إِنَّمَا قُلْتُ إِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا يُحَرَّقُ الْبَيْتُ وَيَکُونُ وَيَکُونُ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي فَيَمْکُثُ أَرْبَعِينَ لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا أَوْ أَرْبَعِينَ عَامًا فَيَبْعَثُ اللَّهُ عِيسَی ابْنَ مَرْيَمَ کَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِکُهُ ثُمَّ يَمْکُثُ النَّاسُ سَبْعَ سِنِينَ لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّأْمِ فَلَا يَبْقَی عَلَی وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَوْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ حَتَّی لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ دَخَلَ فِي کَبَدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْهُ عَلَيْهِ حَتَّی تَقْبِضَهُ قَالَ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَيَبْقَی شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْکِرُونَ مُنْکَرًا فَيَتَمَثَّلُ لَهُمْ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ أَلَا تَسْتَجِيبُونَ فَيَقُولُونَ فَمَا تَأْمُرُنَا فَيَأْمُرُهُمْ بِعِبَادَةِ الْأَوْثَانِ وَهُمْ فِي ذَلِکَ دَارٌّ رِزْقُهُمْ حَسَنٌ عَيْشُهُمْ ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَی لِيتًا وَرَفَعَ لِيتًا قَالَ وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ رَجُلٌ يَلُوطُ حَوْضَ إِبِلِهِ قَالَ فَيَصْعَقُ وَيَصْعَقُ النَّاسُ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ أَوْ قَالَ يُنْزِلُ اللَّهُ مَطَرًا کَأَنَّهُ الطَّلُّ أَوْ الظِّلُّ نُعْمَانُ الشَّاکُّ فَتَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَی فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ ثُمَّ يُقَالُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمَّ إِلَی رَبِّکُمْ وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ قَالَ ثُمَّ يُقَالُ أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ فَيُقَالُ مِنْ کَمْ فَيُقَالُ مِنْ کُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ قَالَ فَذَاکَ يَوْمَ يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا وَذَلِکَ يَوْمَ يُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ

'Abdullah b. 'Amr reported that a person came to him and said: What is this hadith that you narrate that the Last Hour would come at such and such time? Thereupon he said: Hallowed be Allah, there is no god but Allah (or the words to the same effect). I have decided that I would not narrate anything to anyone now. I had only said that you would see after some time an important event that the (sacred) House (Ka'ba) would be burnt and it would happen and definitely happen. He then reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) said: The Dajjal would appear in my Ummah and he would stay (in the world) for forty-I cannot say whether he meant forty days, forty months or forty years. And Allah would then send Jesus son of Mary who would resemble 'Urwa b Mas'ud. He (Jesus Christ) would chase him and kill him. Then people would live for seven years that there would be no rancour between two persons. Then Allah would send cold wind from the side of Syria that none would survive upon the earth having a speck of good in him or faith in him but he would die, so much so that even if some amongst you were to enter the innermost part of the mountain, this wind would reach that place also and that would cause his death. I heard Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: Only the wicked people would survive and they would be as careless as birds with the charactertistics of beasts. They would never appreciate the good nor condemn evil. Then the Satan would come to them in human form and would say: Don't you respond? And they would say: What do you order us? And he would command them to worship the idols but, in spite of this, they would have abundance of sustenance and lead comfortable lives. Then the trumpet would be blown and no one would hear that but he would bend his neck to one side and raise it from the other side and the first one to hear that trumpet would be the person who would be busy in setting right the tank meant for providing water to the camels. He would swoon and the other people would also swoon, then Allah would send or He would cause to send rain which would be like dew and there would grow out of it the bodies of the people. Then the second trumpet would be blown and they would stand up and begin to look (around). Then it would be said: O people, go to your Lord, and make them stand there. And they would be questioned. Then it would be said: Bring out a group (out of them) for the Hell-Fire. And then it would be asked: How much? It would be said: Nine hundred and ninty-nine out of one thousand for the Hell-Fire and that would be the day which would make the children old because of its terror and that would be the day about which it has been said: "On the day when the shank would be uncovered" (lxviii. 42).

………..

 

سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 859   حدیث متواتر حدیث مرفوع        مکررات  14   متفق علیہ 3

 سلیمان بن حرب، محمد بن عیسی، حماد بن زید، ایوب، ابوقلابہ، ابواسماء، حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ (جو آزاد کردہ غلام ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے زمین کو میرے لیے سمیٹ دیا یا یوں فرمایا کہ میرے پرودگار نے میرے لیے زمین کو سکیڑ دیا پس مجھے زمین کے مشارق ومغا رب دکھائے گئے اور بیشک میری امت کی سلطنت عنقریب وہاں تک پہنچی گی جہاں تک میرے لیے زمین کو سمیٹا گیا اور مجھے دو خزانے سرخ وسفید دیئے گئے اور بیشک میں نے اپنی پروردگار سے اپنی امت کے لیے یہ سوال کیا کہ انہیں کسی عام قحط سے ہلاک نہ کیجیے اور نہ ان کے اوپر ان کے علاوہ کوئی غیر دشمن مسلط کردے کہ وہ ان کو جڑ سے ختم کردے۔ اور بیشک میرے پروردگار نے مجھ سے فرمایا کہ اے محمد۔ بیشک میں جب فیصلہ کرتا ہوں تو پھر وہ رد نہیں ہوتا اور میں انہیں کسی عام قحط سے ہلاک نہیں کروں اور نہ ہی ان پر کوئی غیر دشمن مسلط کروں گا اگرچہ سارا کرہ ارض سے ان پر دشمن جمع ہو کر حملہ آور ہوجائیں یہاں تک کہ مسلمانوں میں سے آپس میں ہی بعض بعض کو ہلاک کردیں گے اور بعض بعض کو قید کردیں گے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک مجھے اپنی امت پر گمراہ کرنے والے اماموں (مذہبی رہنماؤں) کا ڈر ہے اور جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی اور قیامت اس دن تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میری امت کے بعض قبائل مشرکین سے جا ملیں گے اور یہاں تک کہ میری امت کے بعض قبائل بتوں کی عبادت کریں اور بیشک میری امت میں تیس کذاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک یہ دعوی کرے گا کہ وہ نبی ہے اور میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت میں سے ایک طائفہ ہمیشہ حق پر رہے گی ابن عیسیٰ کہتے ہیں کہ حق پر غالب رہے گی اور ان کے مخالفین انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا امر آجائے۔

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَی قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ زَوَی لِي الْأَرْضَ أَوْ قَالَ إِنَّ رَبِّي زَوَی لِي الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ مُلْکَ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا وَأُعْطِيتُ الْکَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي أَنْ لَا يُهْلِکَهَا بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَلَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَی أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ وَإِنَّ رَبِّي قَالَ لِي يَا مُحَمَّدُ إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَائً فَإِنَّهُ لَا يُرَدُّ وَلَا أُهْلِکُهُمْ بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَلَا أُسَلِّطُ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَی أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ وَلَوْ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنِ أَقْطَارِهَا أَوْ قَالَ بِأَقْطَارِهَا حَتَّی يَکُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِکُ بَعْضًا وَحَتَّی يَکُونَ بَعْضُهُمْ يَسْبِي بَعْضًا وَإِنَّمَا أَخَافُ عَلَی أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِکِينَ وَحَتَّی تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي الْأَوْثَانَ وَإِنَّهُ سَيَکُونُ فِي أُمَّتِي کَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ کُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَی الْحَقِّ قَالَ ابْنُ عِيسَی ظَاهِرِينَ ثُمَّ اتَّفَقَا لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّی يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ

……………..

سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 892          حدیث مرفوع      مکررات  3  

سہل بن تمام بن بزیع، عمران، قطان، قتادہ، ابونضرہ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مہدی مجھ سے ہوں گے روشن پیشانی اور بلند ناک والے ہوں گے زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح بھریں گے جس طرح وہ ظم و جور سے بھر دی گئی تھی اور سات سال تک حکومت کریں گے، پھر اس کے بعد حضرت عیسیٰ نازل ہوجائیں گے جن کی اقتداء میں حضرت مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دجال سے لڑیں گے۔

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ تَمَّامِ بْنِ بَزِيعٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَهْدِيُّ مِنِّي أَجْلَی الْجَبْهَةِ أَقْنَی الْأَنْفِ يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا کَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا يَمْلِکُ سَبْعَ سِنِينَ

Narrated AbuSa'id al-Khudri:

The Prophet (peace_be_upon_him) said: The Mahdi will be of my stock, and will have a broad forehead a prominent nose. He will fill the earth will equity and justice as it was filled with oppression and tyranny, and he will rule for seven years.

……..

سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 917   حدیث متواتر حدیث مرفوع         مکررات  15   متفق علیہ 4

 مسدد، ہناد، مسدد، ابواحوص، فرات فزاز، عامر بن واثلہ، ہناد، ابوطیفل، حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن اسید الغفاری کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرہ مبارک کے سایہ میں بیٹھے گفتگو کر رہے تھے تو ہم نے قیامت کا ذکر کیا بس ہماری آوازیں بلند ہو گئیں چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہرگز قیامت نہیں ہوگی یا فرمایا قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ اس سے پہلے دس علامات ظاہر ہوں گی۔ 1۔سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔2۔ دابة الارض کا نکلنا۔ 3۔یاجوج وماجوج کا نکلنا۔ 4۔عیسیٰ بن مریم کا نزول۔5۔ دھواں۔ 6۔تین جگہ زمین کا دھنسنا۔7۔ ایک مغرب میں۔8۔ ایک مشرق میں۔9۔ ایک جزیرہ عرب میں۔ اور ان کے سب کے آخر میں یمن میں عدن کی گہرائی سے۔ ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو محشر کی طرف ہانکے گی۔

 

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَهَنَّادٌ الْمَعْنَی قَالَ مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ حَدَّثَنَا فُرَاتٌ الْقَزَّازُ عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ وَقَالَ هَنَّادٌ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ کُنَّا قُعُودًا نَتَحَدَّثُ فِي ظِلِّ غُرْفَةٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرْنَا السَّاعَةَ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنْ تَکُونَ أَوْ لَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ حَتَّی يَکُونَ قَبْلَهَا عَشْرُ آيَاتٍ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ وَخُرُوجُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَالدَّجَّالُ وَعِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ وَالدُّخَانُ وَثَلَاثَةُ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذَلِکَ تَخْرُجُ نَارٌ مِنْ الْيَمَنِ مِنْ قَعْرِ عَدَنٍ تَسُوقُ النَّاسَ إِلَی الْمَحْشَرِ

…………

سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 927   حدیث متواتر حدیث مرفوع         مکررات  11   متفق علیہ 3

 صفوان بن صالح دمشقی مؤذن، ولیدابن جابر، یحیی بن جابر طائی، عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر، حضرت نو اس بن سمعان الکلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر وہ نکلا تو پھر میں اس کا حجت کرنے والا ہوں گا تمہارے علاوہ (تمہاری طرف سے) اور اگر میرے بعد نکلا تو ہر شخص خود ہی اس کا حجت کرنے والا ہوگا اور اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کے اوپر میرے خلیفہ ہیں پس تم میں سے جو اسے پائے تو اس کے اوپر سورت کہف کی ابتدائی آیات پڑھیں اس لیے کہ وہ آیات دجال کے فتنہ سے تمہاری پناہ گاہ ہیں ہم نے عرض کیا کہ وہ زمین پر کب تک رہے گا؟ فرمایا کہ چالیس دن تک اور ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا کہ اور ایک دن ایک ماہ کے برابر اور ایک دن جمعہ (پورے ہفتہ) کے برابر اور بقیہ تمام دن تمہارے ایام کی طرح ہوں گے ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ جو ایک سال کا ایک دن ہوگا کیا اس میں ہمارے لیے ایک ہی دن رات کی نمازیں کافی ہوں گی فرمایا کہ نہیں بلکہ اس دن کے اعتبار سے اندازہ کرلینا پھر عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے جامع مسجد دمشق کے مشرقی سفید منارہ پر اور وہ اسے (دجال کو) باب لد کے قریب پائیں گے تو اسے قتل کردیں گے۔

 

حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الدِّمَشْقِيُّ الْمُؤَذِّنُ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْکِلَابِيِّ قَالَ ذَکَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيکُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَکُمْ وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيکُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ فَمَنْ أَدْرَکَهُ مِنْکُمْ فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ فَوَاتِحَ سُورَةِ الْکَهْفِ فَإِنَّهَا جِوَارُکُمْ مِنْ فِتْنَتِهِ قُلْنَا وَمَا لَبْثُهُ فِي الْأَرْضِ قَالَ أَرْبَعُونَ يَوْمًا يَوْمٌ کَسَنَةٍ وَيَوْمٌ کَشَهْرٍ وَيَوْمٌ کَجُمُعَةٍ وَسَائِرُ أَيَّامِهِ کَأَيَّامِکُمْ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي کَسَنَةٍ أَتَکْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ قَالَ لَا اقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ ثُمَّ يَنْزِلُ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَائِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ فَيُدْرِکُهُ عِنْدَ بَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلُهُ

………

 

سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 930          حدیث مرفوع      مکررات  15   متفق علیہ 10

 ہدبہ بن خالد، ہمام بن یحیی، قتادہ، عبدالرحمن بن آدم، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوگا اور بیشک وہ اتریں گے پس جب تم انہیں دیکھو تو انہیں پہچان لو کہ وہ سرخ وسفید رنگ کے درمیانی رنگ کے مرد ہیں درمیانے قدوقامت کے ہیں گویا کہ ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہوگا اگرچہ وہ تر نہیں ہوگا پس وہ لوگوں سے اسلام پر قتال کریں گے۔ صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ موقوف کردیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں تمام اقوام مذاہب کو ہلاک کردیں گے سوائے اسلام ( اور مسلمانوں) کے اور مسیح دجال کو بھی ہلاک کردیں گے پھر دنیا میں چالیس برس تک رہیں گے پھر انتقال کر جائیں گے اور مسلمان ان پر نماز جنازہ پڑھیں گے۔

حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَی عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ يَعْنِي عِيسَی وَإِنَّهُ نَازِلٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَاعْرِفُوهُ رَجُلٌ مَرْبُوعٌ إِلَی الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ بَيْنَ مُمَصَّرَتَيْنِ کَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ وَإِنْ لَمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ فَيُقَاتِلُ النَّاسَ عَلَی الْإِسْلَامِ فَيَدُقُّ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيُهْلِکُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمِلَلَ کُلَّهَا إِلَّا الْإِسْلَامَ وَيُهْلِکُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَيَمْکُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً ثُمَّ يُتَوَفَّی فَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ

Narrated AbuHurayrah:

The Prophet (peace_be_upon_him) said: There is no prophet between me and him, that is, Jesus (peace_be_upon_him). He will descent (to the earth). When you see him, recognise him: a man of medium height, reddish fair, wearing two light yellow garments, looking as if drops were falling down from his head though it will not be wet. He will fight the people for the cause of Islam. He will break the cross, kill swine, and abolish jizyah. Allah will perish all religions except Islam. He will destroy the Antichrist and will live on the earth for forty years and then he will die. The Muslims will pray over him.

…………

سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 1088          حدیث مرفوع      مکررات  4  

 محمد بن عبداللہ بن عبدالرحیم، اسد بن موسی، بقیہ، ابوبکرزبیدی، اخیہ محمد بن ولید، لقمان بن عامر، عبدالاعلی بن عدی، بہرانی ثوبان مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام حضرت ثوبان فرماتے ہیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے دو طبقے ایسے ہیں جن کو خداوند قدوس دوزخ سے آزاد فرما دیں گے ان میں سے ایک طبقہ تو وہ ہے جو کہ ہند سے جہاد کرے گا جب کہ دوسرا طبقہ وہ ہے جو کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھ ہوگا۔

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ قَالَ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَی قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرٍ الزُّبَيْدِيُّ عَنْ أَخِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَی بْنِ عَدِيٍّ الْبَهْرَانِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِي أَحْرَزَهُمَا اللَّهُ مِنْ النَّارِ عِصَابَةٌ تَغْزُو الْهِنْدَ وَعِصَابَةٌ تَکُونُ مَعَ عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَام

 

It was narrated from Abu Sukainah, a man from among the MuharrarIn, that a man among the Companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  said: “When the Prophet  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم commanded them to dig the trench (Al there was a rock in their way preventing them from digging. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم stood, picked up a pickaxe, put his Rida’ (upper garment) at the edge of the ditch and said: ‘And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice. None can change His Words. And He is the All-Hearer, the All- Knower.’ One-third of the rock broke off while Salman Al-FarisI was standing there watching, and there was a flash of light when the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم struck (the rock). Then he struck it again and said: ‘And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice. None can change His Words. And He is the All-Hearer, the All-Knower.’ And another third of the rock broke off and there was another flash of light, which Salman saw. Then he struck (the rock) a third time and said: ‘And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice. None can change His Words. And He is the All-Hearer, the All- Knower.’ The last third fell, and the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم came out, picked up his Rida’ and sat down. Salman said: ‘Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, Each time you struck the rock there was a flash of light.’ The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said to him: ‘Salman, did you see that?’ He said: ‘Yes, by the One Who sent you with the truth, Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم.’ He said: ‘When I struck the first blow, the cities of Kisra and their environs were shown to me, and many other cities, and I saw them with my own eyes.’ Those of his Companions who were present said: ‘Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, pray to Allah to grant us victory and to give us their lands as spoils of war, and to destroy their lands at our hands.’ So the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم prayed for that. (Then he said:) ‘Then I struck the second blow and the cities of Caesar and their environs were shown to me, and I saw them with my own eyes.’ They said: ‘Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, pray to Allah to grant us victory and to give us their lands as spoils of war, and to destroy their lands at our hands.’ So the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  prayed for that. (Then he said:) ‘Then I struck the third blow and the cities of Ethiopia were shown to me, and the villages around them, and I saw them with my own eyes.’ But the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  said at that point: ‘Leave the Ethiopians alone so long as they leave you alone, and leave the Turks alone so long as they leave you alone.” (Hasan)

……………

جامع  ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 117         حدیث متواتر حدیث مرفوع        مکررات  15   متفق علیہ 10

 قتیبہ، لیث، ابن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے عنقریب لوگوں میں عیسیٰ بن مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نازل ہوں گے جو عدل اور انصاف کے ساتھ حکومت کریں گے صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کریں گے جزیے کو موقوف کر دیں گے اور اتنا مال تقسیم کریں گے کہ لوگ قبول کرنا چھوڑ دیں گے یہ حدیث حسن صحیح ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِکَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيکُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَکَمًا مُقْسِطًا فَيَکْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّی لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

Sayyidina Abu Huraira (RA)  reported that the Prophet (SAW)  said, “By Him in Whose hand is my soul, Ibn Maryam will soon descend among you as a just judge. He will break the cross, kill swine and abolish the jizyah, and wealth will flow to such abundance that no one will take it.”

 

[Ahmed 10944, Bukhari 2222, Muslim 155, Ibn Majah 4078]

………

 

جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 124    حدیث متواتر حدیث مرفوع       مکررات  11   متفق علیہ 3

 علی بن حجر، ولید بن مسلم و عبداللہ بن عبدالرحمن بن یزید بن جابر، یحیی بن جابر طائی، عبدالرحمن بن جبیر، جبیربن نفیر، حضرت نو اس بن سمعان کلابی فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا تو اس طرح اس کی ذلت و حقارت اور اس کے فتنے کی بڑائی بیان کی کہ ہم سمجھنے لگے کہ وہ کھجوروں کی آڑ میں ہے پھر ہم لوگ آپ کے پاس سے چلے گئے اور دوبارہ خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے دلوں کے خوف کو بھانپ گئے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کیا حال ہے؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دجال کا فتنہ بیان کیا تو ہمیں یقین ہوگیا کہ وہ کھجوروں کی آڑ میں ہے یعنی یقینا وہ آنے والا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دجال کے علاوہ ایسی بھی چیزیں ہیں جن کا مجھے دجال کے فتنے سے زیادہ خوف ہے کیونکہ اگر دجال میری موجودگی میں نکلا تو میں اس سے تم لوگوں کی طرف سے مقابلہ کرنے والا ہوں اور اگر میری غیر موجودگی میں نکلا تو ہر شخص خود اپنے نفس کی طرف سے مقابلہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ میری طرف سے ہر مسلمان کا محافظ ہے اس کی صفت یہ ہے وہ جوان ہوگا گھنگریالے بالوں والا ہوگا اس کى ایک آنکھ ہوگی اور عبدالعزی بن قطن کا ہم شکل ہوگا اگر تم میں سے کوئی اسے دیکھے تو سورت کہف کی ابتدائی آیات پڑھے وہ شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور دائیں بائیں کے لوگوں کو خراب کرے گا اے اللہ کے بندو ثابت قدم رہنا پھر ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ کتنی مدت زمین پر ٹھہرے گا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چالیس دن تک پہلا دن ایک سال کے برابر دوسرا ایک ماہ اور تیسرا ایک ہفتے کے برابر ہوگا پھر باقی دن تمہارے عام دنوں کے برابر ہوں گے کیا اس میں ایک دن کی نماز کافی ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ اندازہ لگا لینا ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین میں اس کی تیز رفتاری کس قدر ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ان بادلوں کی طرح جن کو ہوا ہنکا کر لے جائے پھر وہ ایک قوم کے پاس آ کر انہیں اپنی خرافات کی دعوت دے گا وہ لوگ اسے جھٹلا دیں گے اور واپس کر دیں گے پس وہ ان سے واپس لوٹے گا تو ان کے اموال اس کے پیچھے چل پڑیں گے اور وہ خالی ہاتھ رہ جائیں گے وہ ایک اور قوم کے پاس آئے گا انہیں دعوت دے گا وہ قبول کریں گے اور اس کی تصدیق کریں گے تب وہ آسمان کو بارش برسانے کا حکم دے گا وہ بارش برسائے گا اور زمین کو درخت اگانے کا حکم دے گا تو وہ درخت اگائے گی شام کو ان کے جانور اس حالت میں لوٹیں گے کہ ان کے کوہان لمبے کولہے چوڑے اور پھیلے ہوئے اور تھن دودھ سے بھرے ہوں گے پھر وہ ویران جگہ آ کر کہے گا اپنے خزانے نکال دے جب واپس لوٹے گا تو خزانے اس کے پیچھے شہد کی مکھیوں کے سرداروں کی طرح چل پڑیں گے پھر وہ ایک بھرپور جوان کو بلا کر تلوار سے اس کے دو ٹکڑے کر دے گا پھر اسے پکارے گا تو وہ زندہ ہو کر ہنستا ہوا اس کو جواب دے گا وہ انہی باتوں میں مصروف ہوگا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم ہلکے زرد رنگ کا جوڑا پہنے جامع مسجد دمشق کے سفید مشرقی مینارہ پر اس حالت میں اتریں گے کہ ان کے ہاتھ دو فرشتوں کے بازؤں پر رکھے ہوں گے جب آپ سر نیچا کریں گے تو ان کے بالوں سے نورانی قطرات ٹپکیں گے اور جب سر اوپر اٹھائیں گے تو موتیوں کی مثل سفید چاندی کے دانے جھڑتے ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کافر تک آپ کے سانس کی ہوا پہنچے گی مر جائے گا اور آپ کی سانس کی ہوا حد نگاہ تک پہنچتی ہوگی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر حضرت عیسیٰ دجال کو تلاش کریں گے یہاں تک کہ لد کے دروازے پر پائیں گے اور اسے قتل کر دیں گے پھر اللہ تعالیٰ کی چاہت کے مطابق مدت تک زمین پر قیام کریں گے پھر اللہ تعالیٰ وحی بھیجیں گے کہ میرے بندوں کو کوہ طور پر لے جا کر جمع کر دیں کیونکہ میں ایسی مخلوق کو اتارنے والا ہوں جن سے لڑنے کی کسی میں طاقت نہیں آپ نے فرمایا پھر اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا وہ ارشاد الٰہی کے مطابق ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے آپ نے فرمایا انکا پہلا گروہ بحیره طبره پر سے گزرے گا اور اس کا پورا پانی پی جائے گا پھر جب ان کا دوسرا گروہ وہاں سے گزرے گا تو وہ لوگ کہیں گے کہ یہاں کبھی پانی ہوا کرتا تھا پھر وہ لوگ آگے چل دیں گے یہاں تک کہ بیت المقدس کے ایک پہاڑ پر پہنچیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے زمین والوں کو قتل کر دیا اب آسمان والوں کو بھی قتل کر دیں پس وہ آسماں کی طرف تیر پھینکیں گے اللہ تعالیٰ ان کے تیر خون آلود واپس بھیج دے گا عیسیٰ اور آپ کے ساتھی محصور ہوں گے یہاں تک کہ ان کے نزدیک گائے کا سر (بھوک کی وجہ سے) تمہارے آج کے سو دیناروں سے زیادہ اہمیت رکھتا ہوگا عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کے ساتھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کر دے گا یہاں تک کہ سب یکدم مر جائیں گے جب عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اتریں گے اور ان کی بدبو اور خون کی وجہ سے ایک بالشت جگہ بھی خالی نہیں پائیں گے پھر عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی دعا مانگیں گے تو اللہ تعالیٰ لمبی گردن والے اونٹ کی مثل پرندے بھیجے گا جو انہیں اٹھا کر پہاڑ کى غار میں پہنچا دیں گے مسلمان ان کے تیروں، کمانوں اور ترکشوں سے سات سال تک ایندھن جلائیں گے پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش برسائے گا جو ہر گھر اور خیمہ تک پہنچے گی تمام زمین کو دھو کر شیشہ کی طرح صاف شفاف کر دے گی پھر زمین سے کہا جائے گا اپنے پھل باہر نکال اور اپنی برکتیں واپس لاؤ پس اس دن ایک گروہ ایک انار سے کھائے گا اور اس کے لوگ اس کے چھلکے سے سایہ کریں گے نیز دودھ میں اتنی برکت پیدا کر دی جائے گی کہ ایک اونٹنی کے دودھ سے ایک جماعت سیر ہو جائے گا ایک گائے کے دودھ سے ایک قبیلہ اور ایک بکری کے دودھ سے ایک کنبہ سیر ہو جائے گا وہ لوگ اسی طرح زندگی گزار رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسی ہوا بھیجے گا جو ہر مومن کی روح قبض کرے گی اور باقی صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح راستے میں جماع کرتے پھریں گے اور انہی پر قیامت قائم ہوگی یہ حدیث غریب حسن صحیح ہے ہم اسے صرف عبدالرحمن بن یزید بن جابر کی روایت سے پہچانتے ہیں

 

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ دَخَلَ حَدِيثُ أَحَدِهِمَا فِي حَدِيثِ الْآخَرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْکِلَابِيِّ قَالَ ذَکَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالَ ذَاتَ غَدَاةٍ فَخَفَّضَ فِيهِ وَرَفَّعَ حَتَّی ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ قَالَ فَانْصَرَفْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَيْهِ فَعَرَفَ ذَلِکَ فِينَا فَقَالَ مَا شَأْنُکُمْ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَکَرْتَ الدَّجَّالَ الْغَدَاةَ فَخَفَّضْتَ فِيهِ وَرَفَّعْتَ حَتَّی ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ قَالَ غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ لِي عَلَيْکُمْ إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيکُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَکُمْ وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيکُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ عَيْنُهُ طَافِئَةٌ شَبِيهٌ بِعَبْدِ الْعُزَّی بْنِ قَطَنٍ فَمَنْ رَآهُ مِنْکُمْ فَلْيَقْرَأْ فَوَاتِحَ سُورَةِ أَصْحَابِ الْکَهْفِ قَالَ يَخْرُجُ مَا بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَشِمَالًا يَا عِبَادَ اللَّهِ اثْبُتُوا قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا لَبْثُهُ فِي الْأَرْضِ قَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا يَوْمٌ کَسَنَةٍ وَيَوْمٌ کَشَهْرٍ وَيَوْمٌ کَجُمُعَةٍ وَسَائِرُ أَيَّامِهِ کَأَيَّامِکُمْ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الْيَوْمَ الَّذِي کَالسَّنَةِ أَتَکْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ قَالَ لَا وَلَکِنْ اقْدُرُوا لَهُ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا سُرْعَتُهُ فِي الْأَرْضِ قَالَ کَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ فَيَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيُکَذِّبُونَهُ وَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ فَتَتْبَعُهُ أَمْوَالُهُمْ وَيُصْبِحُونَ لَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْئٌ ثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ وَيُصَدِّقُونَهُ فَيَأْمُرُ السَّمَائَ أَنْ تُمْطِرَ فَتُمْطِرَ وَيَأْمُرُ الْأَرْضَ أَنْ تُنْبِتَ فَتُنْبِتَ فَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ کَأَطْوَلِ مَا کَانَتْ ذُرًا وَأَمَدِّهِ خَوَاصِرَ وَأَدَرِّهِ ضُرُوعًا قَالَ ثُمَّ يَأْتِي الْخَرِبَةَ فَيَقُولُ لَهَا أَخْرِجِي کُنُوزَکِ فَيَنْصَرِفُ مِنْهَا فَيَتْبَعُهُ کَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ ثُمَّ يَدْعُو رَجُلًا شَابًّا مُمْتَلِئًا شَبَابًا فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جِزْلَتَيْنِ ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَضْحَکُ فَبَيْنَمَا هُوَ کَذَلِکَ إِذْ هَبَطَ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام بِشَرْقِيِّ دِمَشْقَ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَائِ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَی أَجْنِحَةِ مَلَکَيْنِ إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَّانٌ کَاللُّؤْلُؤِ قَالَ وَلَا يَجِدُ رِيحَ نَفْسِهِ يَعْنِي أَحَدًا إِلَّا مَاتَ وَرِيحُ نَفْسِهِ مُنْتَهَی بَصَرِهِ قَالَ فَيَطْلُبُهُ حَتَّی يُدْرِکَهُ بِبَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلَهُ قَالَ فَيَلْبَثُ کَذَلِکَ مَا شَائَ اللَّهُ قَالَ ثُمَّ يُوحِي اللَّهُ إِلَيْهِ أَنْ حَوِّزْ عِبَادِي إِلَی الطُّورِ فَإِنِّي قَدْ أَنْزَلْتُ عِبَادًا لِي لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ قَالَ وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَهُمْ کَمَا قَالَ اللَّهُ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ قَالَ فَيَمُرُّ أَوَّلُهُمْ بِبُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ فَيَشْرَبُ مَا فِيهَا ثُمَّ يَمُرُّ بِهَا آخِرُهُمْ فَيَقُولُ لَقَدْ کَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَائٌ ثُمَّ يَسِيرُونَ حَتَّی يَنْتَهُوا إِلَی جَبَلِ بَيْتِ مَقْدِسٍ فَيَقُولُونَ لَقَدْ قَتَلْنَا مَنْ فِي الْأَرْضِ فَهَلُمَّ فَلْنَقْتُلْ مَنْ فِي السَّمَائِ فَيَرْمُونَ بِنُشَّابِهِمْ إِلَی السَّمَائِ فَيَرُدُّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ نُشَّابَهُمْ مُحْمَرًّا دَمًا وَيُحَاصَرُ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّی يَکُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ يَوْمَئِذٍ خَيْرًا لِأَحَدِهِمْ مِنْ مِائَةِ دِينَارٍ لِأَحَدِکُمْ الْيَوْمَ قَالَ فَيَرْغَبُ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ إِلَی اللَّهِ وَأَصْحَابُهُ قَالَ فَيُرْسِلُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَی مَوْتَی کَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ قَالَ وَيَهْبِطُ عِيسَی وَأَصْحَابُهُ فَلَا يَجِدُ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلَّا وَقَدْ مَلَأَتْهُ زَهَمَتُهُمْ وَنَتَنُهُمْ وَدِمَاؤُهُمْ قَالَ فَيَرْغَبُ عِيسَی إِلَی اللَّهِ وَأَصْحَابُهُ قَالَ فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ طَيْرًا کَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ قَالَ فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ بِالْمَهْبِلِ وَيَسْتَوْقِدُ الْمُسْلِمُونَ مِنْ قِسِيِّهِمْ وَنُشَّابِهِمْ وَجِعَابِهِمْ سَبْعَ سِنِينَ قَالَ وَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مَطَرًا لَا يُکَنُّ مِنْهُ بَيْتُ وَبَرٍ وَلَا مَدَرٍ قَالَ فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ فَيَتْرُکُهَا کَالزَّلَفَةِ قَالَ ثُمَّ يُقَالُ لِلْأَرْضِ أَخْرِجِي ثَمَرَتَکِ وَرُدِّي بَرَکَتَکِ فَيَوْمَئِذٍ تَأْکُلُ الْعِصَابَةُ مِنْ الرُّمَّانَةِ وَيَسْتَظِلُّونَ بِقَحْفِهَا وَيُبَارَکُ فِي الرِّسْلِ حَتَّی إِنَّ الْفِئَامَ مِنْ النَّاسِ لَيَکْتَفُونَ بِاللِّقْحَةِ مِنْ الْإِبِلِ وَإِنَّ الْقَبِيلَةَ لَيَکْتَفُونَ بِاللِّقْحَةِ مِنْ الْبَقَرِ وَإِنَّ الْفَخِذَ لَيَکْتَفُونَ بِاللِّقْحَةِ مِنْ الْغَنَمِ فَبَيْنَمَا هُمْ کَذَلِکَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا فَقَبَضَتْ رُوحَ کُلِّ مُؤْمِنٍ وَيَبْقَی سَائِرُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ کَمَا تَتَهَارَجُ الْحُمُرُ فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ

 

Sayyidina Nawwas narrated: "Allah's Messenger (SAW) mentioned  Dajjal one day. He exposed his baseness and emphasized his mischief till we thought he was behind the palm trees. We then dispersed from Allah's Messenger (SAW) only to return shortly. He recognized our state of mind and said, 'How is it with you?' We said, 'O Messenger of Allah! You mentioned Dajjal and made  it soft as well as emphatic so that we imagined he was behind some palms. (they meant: He is so sure to come). He said: 'More fearful to me than the Dajjal (are some other things), for if hje emerges while I am among you then I will content with him on your behalf. And if he comes and I am not among you the let everyone of you contend with him on his behalf, and Allah is my Khalifa over every Muslim (i.e. Allah is the One to protect them from the mischief of Dajjal.) Dajjal wil be a youth with curly hair and one eye. He will resemble Abd Uzza bin Qatan-(a king of pre-Islamic era). So those of you who see him, should recite the initial verses of surah al-Kahf. He will come out from what is between Syria and Iraq and corrupt (people on) right and left. O slaves of Allah, be steadfast.' We said, 'O Merssenger of Allah, how long will he tarry on earth?' He said, 'Forty days, (the first) day like a year, a day like a month, a day like a week and the rest of his days like your days.' We submitted, 'O Messenger of Allah, will a day's prayer suffice us in the day that wouldf be like a year?' He said, 'No but make an estimate for it.' We submitted, 'O Messenger of Allah, what will be his speed of movement on earth?’ He said, “Like rain which is driven forward by the wind. He will come to a people and invite them but they will reject him and return him hl words. So, he will turn away from them and their properties will follow him and they will become bereft of everyting on their hands. He will then come upon another people whom he will invite and they will respond to him and confirm him, so he will command the sky to pour rain. It will pour rain. He will command the earth to grow and it will produce crops. Their pasturing animals will come to them with their humps high, their udders full of milk. He will come upon the waste land and command it to bring forth its treasures. So, they will come out of it and go after him like swarms of bees. He will then summon a young man his youth showing on him with fulness. He will strike him with the sword and cut him into two pieces, then he will summon him and he will come revived with a shining, laughing face. While he is like that, Eesa ibn Maryam will descend in the east of Damascus at the white minaret, donned in two Saffron coloured garments, his hands on the wings of two angels. If he lowers his head, it will drip and when he raises it, those drops will fall down like shining pearls. “(This is a description of his extreme radiance). “And no one (who disbelieves) will feel his breath but will die. And, the limit of the reach of his breath will be his sight. He will then seek the dajjal and catch up with him at the gate of LuddO, and he will kill him. Then he will stay on earth as long as Allah wills. Allah will reveal to him, ‘Collect my slaves at Tur, for I have sent there such of My slaves whom no one can fight’. Allah will then send Yajuj and Majuj. They will come as Allah has said: "And they sally forth from every mound." (21 : 96)

 

The first of them will pass the lake Tibriyah (Tiberias) and drink all its contents. Then the last of them will pass and remark, ‘Indeed, there was once, in here water!’ They will travel till they end up at the mountain of Bayt al Maqdas (Jerusalem). They will recall, ‘We have killed all who were on earth. So, come let us kill those who are in heaven’. They will shoot their arrows into the sky and Allah will return to them their arrows reddened as with blood. (Meanwhile) Eesa ibn Maryam (AS) and his companions will surround them and the head of an ox will seem better to each of them then a hundred dinars are to one of you today. So, Eesa ibn Maryam will turn to Allah with his companions. So, Allah wil send down upon them insects on their necks, and by morning all of them would have perished as though they were one person. Eesa and his companions would descend but not find space of even a span without being filled with their fat, odour and blood. So, Eesa and his companions would again turn to Allah Who will send birds on them. Their necks will be like camel’s and they will carry the corpses away to mahbul. Thereafter, Muslims will kindle fire with their arrows, bows and quivers for seven years. Allah will send down on them rain which no mudhouse or tent will keep out but the earth will be washed and it will shine like glass. Then the earth will be commanded to grow its fruit and other produce and bring back its blessings. A whole group will eat from the pomegrenate and they will shelter themselves under its peel. There will be tremendous blessing in milk so that a whole group of men will be satiated with the milk of one she-camel, a whole tribe with the milk of a cow and a whole family with the milk of a shegoat. while they are thus living, Allah will send a wind that will take away the soul of every believer, but there will remain the evil people who will have sexual intercourse on the roads just as asses have. The Hour will come upon them.

……………

 

جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 128          حدیث متواتر حدیث مرفوع        مکررات  7   متفق علیہ 1

 قتیبہ، لیث، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن ثعلبہ انصاری، حضرت مجمع بن جاریہ انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حضرت عیسیٰ دجال کو باب لد کے پاس قتل کریں گے اس باب میں عمران بن حصین، نافع بن عتبہ، ابوبرزہ، حذیفہ بن اسید، ابوہریرہ، کیسان، عثمان بن ابی العاص، جابر، ابوامامہ، ابن مسعود، عبداللہ بن عمرو، سمرہ بن جندب، نو اس بن سمعان، عمرو بن عوف اور حذیفہ بن یمان سے بھی احادیث منقول ہیں یہ حدیث صحیح ہے

 

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْأَنْصَارِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَمِّي مُجَمِّعَ ابْنَ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَقْتُلُ ابْنُ مَرْيَمَ الدَّجَّالَ بِبَابِ لُدٍّ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَنَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ وَأَبِي بَرْزَةَ وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَکَيْسَانَ وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ وَجَابِرٍ وَأَبِي أُمَامَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ وَالنَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ وَعَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

Sayyidina Mujamma ibn Jariyah Ansari (RA) reported having heard Allah’s Messenger say, “Ibn Maryam will kill dajjal at the gate of Ludd (Lod).”

 

[Ahmed 15466]

…………..

جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1583        حدیث موقوف   مکررات 1

 زید بن اخزم طائی بصری، ابوقتیبہ سلم بن قتیبہ، ابومودود مدنی، عثمان بن ضحاک، محمد بن یوسف بن عبداللہ بن سلام، حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ تورات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات مذکور ہیں یہ کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ان (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دفن ہوگے۔ ابومودود کہتے ہی کہ حجرہ مبارک میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ عثمان بن ضحاک بھی اسی طرح کہتے ہیں۔ انکا معروف نام ضحاک بن عثمان مدینی ہے۔

 

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنِي أَبُو مَوْدُودٍ الْمَدَنِيُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الضَّحَّاکِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ مَکْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ صِفَةُ مُحَمَّدٍ وَصِفَةُ عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ يُدْفَنُ مَعَهُ فَقَالَ أَبُو مَوْدُودٍ وَقَدْ بَقِيَ فِي الْبَيْتِ مَوْضِعُ قَبْرٍ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ هَکَذَا قَالَ عُثْمَانُ بْنُ الضَّحَّاکِ وَالْمَعْرُوفُ الضَّحَّاکُ بْنُ عُثْمَانَ الْمَدَنِيُّ

Sayyidina Abdullah ibn Salaam (RA)  narrated: There is written in the Torah, the description of Muhammad (SAW) (and of) Eesa (RA) Maryam that he would be buried with him. Abu Mawdud reported that there is space for a grave in the house (shrine).

…………

سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 935         حدیث مرفوع      مکررات  15   متفق علیہ 4

 علی بن محمد، وکیع، سفیان، فرات قزاز، عامر بن واثلہ ابی طفیل کنانی، حضرت حذیفہ بن اسید ابوسریحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالاخانہ سے ہماری طرف متوجہ ہوئے ہم آپس میں قیامت کا تذکرہ کر رہے تھے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ دس نشانیاں ظاہر ہوں۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال، دھواں، دابة الارض کا نکلنا، خروج یاجوج ماجوج، خروج عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اور تین (نشانیاں) زمین کا (مختلف جہت میں) دہنسنا ایک مشرق میں اور ایک مغرب میں اور ایک جزیرہ عرب میں۔ دسویں نشانی آگ ہے جو عدن کے نشیب ابین سے نکلے گی اور لوگوں کو ہانک کر ارض محشر کی طرف لے جائے گی دن اور رات میں جب لوگ آرام کی خاطر ٹھہریں گے تو آگ بھی ٹھہرجائے گی۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَبِي الطُّفَيْلِ الْکِنَانِيِّ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ أَبِي سَرِيحَةَ قَالَ اطَّلَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غُرْفَةٍ وَنَحْنُ نَتَذَاکَرُ السَّاعَةَ فَقَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی تَکُونَ عَشْرُ آيَاتٍ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدَّجَّالُ وَالدُّخَانُ وَالدَّابَّةُ وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَخُرُوجُ عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام وَثَلَاثُ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنِ أَبْيَنَ تَسُوقُ النَّاسَ إِلَی الْمَحْشَرِ تَبِيتُ مَعَهُمْ إِذَا بَاتُوا وَتَقِيلُ مَعَهُمْ إِذَا قَالُوا

It was narrated that Hudhaifah bin Asid, Abu Sarihah, said: “The Messenger of Allah P.B.U.H looked out from a room, when we were talking about the Hour. He said: ‘The Hour will not begin until ten signs appear: The rising of the sun from the west (place of its setting); Dajjal; the smoke; the beast; Gog and Magog people; the appearance of ‘Eisa bin Maryam, the earth collapsing three times — once in the east, once in the west and once in the Arabian Peninsula; and fire that will emerge from the plain of Aden Abyan and will drive the people to the place of Cathering, stopping with them when they stop at night and when they stop to rest at midday.” (Sahih)

……………

سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 955          حدیث متواتر حدیث مرفوع       مکررات  11   متفق علیہ 3

 ہشام بن عمار، یحییٰ بن حمزہ، عبدالرحمن بن یزید بن جابر، عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر، حضرت نو اس بن سمعان کلابی سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کو دجال کا بیان کیا تو اس کی ذلت بھی بیان کی (کہ وہ کانا ہے اور اللہ کے نزدیک ذلیل ہے) اور اس کی بڑائی بھی بیان کی (کہ اس کا فتنہ سخت ہے اور وہ عادات کے خلاف باتیں دکھلائے گا یہاں تک کہ ہم سمجھے کہ وہ ان کھجوروں میں ہے (یعنی ایساقریب ہے گویا حاضر ہے یہ آپ کے بیان کا اثر اور صحابہ کے ایمان کا سبب تھا (جب ہم لوٹ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے (یعنی دوسرے وقت) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دجال کے ڈر کا اثر ہم میں پایا (ہمارے چہروں پر گھبراہٹ اور خوف سے) آپ نے پوچھا تمہارا کیا حال ہے؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کو آپ نے دجال کا ذکر کیا اس کی ذلت بھی بیان کی اور اس کی عظمت بھی بیان کی یہاں تک کہ ہم سمجھے کہ وہ انہی کھجور کے درختوں میں ہے۔ آپ نے فرمایا دجال کے سوا اوروں کا مجھے زیادہ ڈر ہے تم پر اور دجال اگر میری موجودگی میں نکلا تو میں اس سے حجت کروں گا تمہاری طرف سے (تم الگ رہو گے) اور اگر اس وقت نکلے جب میں تم میں نہ ہوں (بلکہ میری وفات ہو جائے (توہر ایک شخص اپنی حجت آپ کر لے اور اللہ میرا خلیفہ ہے ہر مسلمان پر۔ دیکھو! دجال جوان ہے (اور تمیم کی روایت میں گزرا کہ وہ بوڑھا ہے اور شاید رنج وغم سے تمیم کو بوڑھا معلوم ہوا ہو یہ بھی دجال کا کوئی شعبدہ ہو) اس کے بال بہت گھنگریالے ہیں اس کی آنکھ ابھری ہوئی ہے۔ گویا میں اس کی مشابہت دیکھتا ہوں عبدالعزی بن قطن سے (وہ ایک شخص تھا۔ قوم خزاعہ کا جو جاہلیت کے زمانہ میں مر گیا تھا) پھر جو کوئی تم میں سے دجال کو پائے تو شروع سورت کہف کی آیتیں اس پر پڑھے (ان آیتوں کے پڑھنے سے دجال کے فتنہ سے بچے گا) دیکھو دجال خلہ سے نکلے گا جو شام اور عراق کے درمیان (ایک راہ) ہے اور فساد پھیلاتا پھرے گا دائیں طرف اور بائیں طرف ملکوں میں اے اللہ کے بندوں مضبوط رہنا ایمان پر ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ کتنے دنوں تک زمین پر رہے گا؟ آپ نے فرمایا کہ چالیس دن تک جن میں ایک دن سال بھر کا ہوگا اور ایک دن ایک مہینے کا اور ایک دن ایک ہفتے کا اور باقی دن تمہارے ان دنوں کی طرح ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ دن جو ایک برس کا ہوگا جو اس میں ہم کو ایک دن کی (پانچ نمازیں کافی ہوں گی (قیاس تو یہی تھا کہ کافی ہوتیں مگر آپ نے فرمایا اندازہ کر کے نماز پڑھ لو۔ ہم نے عرض کیا وہ زمین میں کس قدر جلد چلے گا (جب تو اتنی تھوڑی مدت میں ساری دنیا گھوم آئیگا) آپ نے فرمایا ابر کی مثال ہوا اس کے پیچھے رہے گی وہ ایک قوم کے پاس آئے گا اور ان کو اپنی طرف بلائے گا وہ اس کو مان لیں گے اور اس پر ایمان لائیں گے (معاذاللہ وہ الوہیت کا دعوی کرے گا) پھر وہ آسمان کو حکم دے گا وہ ان پر پانی برسائے گا اور زمین کو حکم دے گا وہ اناج اگائے گی اور ان کے جانور شام کو آئیں گے (چراگاہ سے لوٹ کر) ان کی کوہان خوب اونچی یعنی خوب موٹے تازے ہو کر اور ان کے تھن خوب خوب بھرے ہوئے دودھ والے اور ان کی کھوکھیں پھولی ہوں گی پھر ایک قوم کے پاس آئے گا ان کو اپنی طرف بلائے گا وہ اس کی بات نہ مانیں گے اس کے اللہ ہونے کو رد کر دیں گے) آخر دجال ان کے پاس سے لوٹ جائے گا صبح کو انکا ملک قحط زدہ ہوگا اور ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہے گا۔ پھر دجال ایک کھنڈر پر سے گزرے گا اور اس سے کہے گا اپنے خزانے نکال اس کھنڈر کے سب خزانے اس کے ساتھ ہولیں گے جیسے شہد کی مکھیاں بڑی مکھی یعنی یعسوب کے ساتھ ہوتی ہیں پھر ایک شخص کو بلائے گا جو اچھا موٹا تازہ جوان ہوگا اور تلوار سے اس کو مارے گا۔ وہ دو ٹکڑے ہو جائے گا اور ہر ایک ٹکڑے کو دوسرے ٹکڑے سے تیر کے (گرنے کے) فاصلہ تک کر دے گا۔ پھر اس کا نام لے کر اس کو بلائے گا وہ شخص زندہ ہو کر آئے گا اس کا منہ چمکتا ہوگا اور وہ ہنستا ہوگا۔ خیر دجال اور لوگ اسی حالت میں ہوں گے کہ اتنے میں اللہ حضرت عیسیٰ بن مریم کو بھیجے گا اور سفید مینار پر دمشق کے مشرق کیجانب اتریں گے۔ دو زرد کپڑے پہنے ہوئے (دو ورس یازعفران میں رنگے ہوں گے) اور اپنے دونوں ہاتھ فرشتوں کے بازو پر رکھے ہوئے جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو اس میں سے پسینہ ٹپکے گا اور جب اونچا کریں گے تو پسینے کے قطرے اس میں سے گریں گے موتی کی طرح اور جو کافر ان کے سانس کا اثر پائے گا (یعنی اس کی بو) وہ مرجائے گا اور اس کے سانس کا اثر وہاں تک جائے گا جہاں تک ان کی نظر جائے گی آخر حضرت عیسیٰ چلیں گے اور دجال کو باب لد پر پائیں گے (وہ ایک پہاڑ ہے شام میں اور بعضوں نے کہا کہ بیت المقدس کا ایک گاؤں ہے) وہاں اس مردود کو قتل کریں گے (دجال ان کو دیکھ کر ایسا پگھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے) پھر حضرت عیسیٰ اللہ کے نبی ان لوگوں کے پاس آئیں گے جن کو اللہ نے دجال کے شر سے بچایا اور ان کے منہ پر ہاتھ پھیریں گے اور ان کو جنت میں جو درجے ملیں گے وہ ان سے بیان کرینگے لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ وحی بھیجے گا۔ حضرت عیسیٰ پر اے عیسیٰ میں نے اپنے بندوں بندوں کو نکالا کریں یا کہ پہلے ہے کہ ان سے کوئی لڑنہیں سکتا تو میرے (مومن) بندوں کو طور پہاڑ پر لے جا اور اللہ تعالیٰ یاجوج اور ماجوج کو بھیجے گا جیسے اللہ نے فرمایا (من کل حدب ینسلون) یعنی ہر ایک ٹیلے پر سے چڑھ دوڑیں گے تو انکا پہل اگر وہ (جو مثل ٹڈیوں کے ہوں گے کثرت میں ان کا پہلا حصہ یعنی آگے کا حصہ طبریہ کے تالاب میں پانی تھا اور حضرت عیسیٰ اور آپ کے ساتھ رکے رہیں گے (طور پہاڑ پر) یہاں تک کہ ایک بیل کی سری ان کے لئے سو اشرفی سے بہتر ہوگی تمہارے لئے آج کے دن۔ آخر حضرت عیسیٰ اور آپ کے ساتھی اللہ کی درگاہ میں دعا کریں گے تو اللہ یاجوج ماجوج لوگوں پر ایک پھوڑا بھیجے گا (اس میں کیڑا ہوتا ہے) ان کی گردنوں میں وہ دوسرے دن صبح کو سب مرے ہوئے ہوں گے جیسے ایک آدمی مرتا ہے اور حضرت عیسیٰ اور آپ کے ساتھی پہاڑ سے اتریں گے اور ایک بالشت برابر جگہ نہ پائیں گے جو ان کی چکنائی بدبو اور خون سے خالی ہو آخر وہ پھر دعا کریں گے اللہ کی جناب میں اللہ تعالیٰ کچھ پرند جانور بھیجے گا جن کی گردنیں بختی اونٹوں کی گردنوں کے برابر ہوں گی (یعنی اونٹوں کے برابر پرند آئیں گے بختی اونٹ ایک قسم کا اونٹ ہے جو بڑا ہوتا ہے وہ ان کی لاشیں اٹھا کر لے جائیں گے اور جہاں اللہ تعالیٰ کو منظور ہے وہاں ڈال دیں گے پھر اللہ تعالیٰ پانی برسائے گا کوئی گھر مٹی کا اس پانی کو نہ روک سکے گا یہ پانی ان سب کو دھوڈالے گا یہاں تک کہ زمین آئینہ کی طرح صاف ہو جائے گی پھر زمین سے کہا جائے گا اب اپنے پھل اگا اور اپنی برکت پھیر لا اس دن کئی آدمی مل کر ایک انار کھائینگے اور سیر ہو جائیں اور انار کے چھلکے سے سایہ کرینگے (چھتری کی طرح) اتنے بڑے بڑے انار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ دودھ میں برکت دے گا یہاں تک کہ ایک دودھ والی اونٹنی لوگوں کی کئی جماعتوں پر کافی ہوگی ایک گائے دودھ والی ایک قبیلہ کے لوگوں کو کافی ہوگی اور ایک بکری دودھ والی ایک چھوٹے قبیلے کو کافی ہو جائے گی لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا وہ ان کی بغلوں کے تلے اثر کرے گی اور ہر ایک مومن کی روح قبض کریگی اور باقی لوگ گدھوں کی طرح لڑتے جھگڑتے یا جماع کرتے (اعلانیہ) رہ جائیں گے ان لوگوں پر قیامت ہوگی۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْکِلَابِيَّ يَقُولُ ذَکَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالَ الْغَدَاةَ فَخَفَضَ فِيهِ وَرَفَعَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ فَلَمَّا رُحْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَفَ ذَلِکَ فِينَا فَقَالَ مَا شَأْنُکُمْ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَکَرْتَ الدَّجَّالَ الْغَدَاةَ فَخَفَضْتَ فِيهِ ثُمَّ رَفَعْتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ قَالَ غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَيْکُمْ إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيکُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَکُمْ وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيکُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ عَيْنُهُ قَائِمَةٌ کَأَنِّي أُشَبِّهُهُ بِعَبْدِ الْعُزَّی بْنِ قَطَنٍ فَمَنْ رَآهُ مِنْکُمْ فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ فَوَاتِحَ سُورَةِ الْکَهْفِ إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ خَلَّةٍ بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَعَاثَ شِمَالًا يَا عِبَادَ اللَّهِ اثْبُتُوا قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا لُبْثُهُ فِي الْأَرْضِ قَالَ أَرْبَعُونَ يَوْمًا يَوْمٌ کَسَنَةٍ وَيَوْمٌ کَشَهْرٍ وَيَوْمٌ کَجُمُعَةٍ وَسَائِرُ أَيَّامِهِ کَأَيَّامِکُمْ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَلِکَ الْيَوْمُ الَّذِي کَسَنَةٍ تَکْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ قَالَ فَاقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ قَالَ قُلْنَا فَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الْأَرْضِ قَالَ کَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ قَالَ فَيَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ فَيَأْمُرُ السَّمَائَ أَنْ تُمْطِرَ فَتُمْطِرَ وَيَأْمُرُ الْأَرْضَ أَنْ تُنْبِتَ فَتُنْبِتَ وَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ أَطْوَلَ مَا کَانَتْ ذُرًی وَأَسْبَغَهُ ضُرُوعًا وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ ثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ فَيُصْبِحُونَ مُمْحِلِينَ مَا بِأَيْدِيهِمْ شَيْئٌ ثُمَّ يَمُرَّ بِالْخَرِبَةِ فَيَقُولُ لَهَا أَخْرِجِي کُنُوزَکِ فَيَنْطَلِقُ فَتَتْبَعُهُ کُنُوزُهَا کَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ ثُمَّ يَدْعُو رَجُلًا مُمْتَلِئًا شَبَابًا فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ ضَرْبَةً فَيَقْطَعُهُ جِزْلَتَيْنِ رَمْيَةَ الْغَرَضِ ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَضْحَکُ فَبَيْنَمَا هُمْ کَذَلِکَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ عِيسَی ابْنَ مَرْيَمَ فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَائِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ وَاضِعًا کَفَّيْهِ عَلَی أَجْنِحَةِ مَلَکَيْنِ إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ وَإِذَا رَفَعَهُ يَنْحَدِرُ مِنْهُ جُمَانٌ کَاللُّؤْلُؤِ وَلَا يَحِلُّ لِکَافِرٍ يَجِدُ رِيحَ نَفَسِهِ إِلَّا مَاتَ وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرَفُهُ فَيَنْطَلِقُ حَتَّی يُدْرِکَهُ عِنْدَ بَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يَأْتِي نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَی قَوْمًا قَدْ عَصَمَهُمْ اللَّهُ فَيَمْسَحُ وُجُوهَهُمْ وَيُحَدِّثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ فَبَيْنَمَا هُمْ کَذَلِکَ إِذْ أَوْحَی اللَّهُ إِلَيْهِ يَا عِيسَی إِنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا لِي لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ وَأَحْرِزْ عِبَادِي إِلَی الطُّورِ وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَهُمْ کَمَا قَالَ اللَّهُ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ فَيَمُرُّ أَوَائِلُهُمْ عَلَی بُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهَا ثُمَّ يَمُرُّ آخِرُهُمْ فَيَقُولُونَ لَقَدْ کَانَ فِي هَذَا مَائٌ مَرَّةً وَيَحْضُرُ نَبِيُّ اللَّهِ وَأَصْحَابُهُ حَتَّی يَکُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ لِأَحَدِهِمْ خَيْرًا مِنْ مِائَةِ دِينَارٍ لِأَحَدِکُمْ الْيَوْمَ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَی وَأَصْحَابُهُ إِلَی اللَّهِ فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَی کَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَيَهْبِطُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَی وَأَصْحَابُهُ فَلَا يَجِدُونَ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلَّا قَدْ مَلَأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتْنُهُمْ وَدِمَاؤُهُمْ فَيَرْغَبُونَ إِلَی اللَّهِ فَيُرْسِلُ عَلَيْهِمْ طَيْرًا کَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَائَ اللَّهُ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مَطَرًا لَا يُکِنُّ مِنْهُ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ فَيَغْسِلُهُ حَتَّی يَتْرُکَهُ کَالزَّلَقَةِ ثُمَّ يُقَالُ لِلْأَرْضِ أَنْبِتِي ثَمَرَتَکِ وَرُدِّي بَرَکَتَکِ فَيَوْمَئِذٍ تَأْکُلُ الْعِصَابَةُ مِنْ الرِّمَّانَةِ فَتُشْبِعُهُمْ وَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا وَيُبَارِکُ اللَّهُ فِي الرِّسْلِ حَتَّی إِنَّ اللِّقْحَةَ مِنْ الْإِبِلِ تَکْفِي الْفِئَامَ مِنْ النَّاسِ وَاللِّقْحَةَ مِنْ الْبَقَرِ تَکْفِي الْقَبِيلَةَ وَاللِّقْحَةَ مِنْ الْغَنَمِ تَکْفِي الْفَخِذَ فَبَيْنَمَا هُمْ کَذَلِکَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ رِيحًا طَيِّبَةً فَتَأْخُذُ تَحْتَ آبَاطِهِمْ فَتَقْبِضُ رُوحَ کُلَّ مُسْلِمٍ وَيَبْقَی سَائِرُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ کَمَا تَتَهَارَجُ الْحُمُرُ فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ

……………

 

سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 957         حدیث مرفوع      مکررات  11   متفق علیہ 3

 علی بن محمد، عبدالرحمن محاربی، اسماعیل بن رافع ابی رافع، ابی زرعہ شیبانی، یحییٰ بن ابی عمرو حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو خطبہ سنایا تو بڑا خطبہ آپ کا دجال سے متعلق تھا آپ نے دجال کا حال ہم سے بیان کیا اور ہم کو اس سے ڈرایا تو فرمایا کوئی فتنہ جب سے اللہ تعالیٰ نے آدم کی اولاد کو پیدا کیا زمین دجال کے فتنے سے بڑھ کر نہیں ہوا اور اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو۔ اور میں تمام انبیاء کے آخر میں ہوں اور تم آخر میں ہو سب امتوں سے اور دجال تمہی لوگوں میں ضرور پیدا ہوگا پھر اگر وہ نکلے اور میں تم میں موجود ہوں تو میں ہر مسلمان کی طرف سے حجت کروں گا۔ دجال کا فتنہ ایسا بڑا ہو کہ اگر میرے سامنے نکلے تو مجھ کو اس سے بحث کرنا پڑے گی اور کوئی شخص اس کام کے لئے کافی نہ ہوگا اور اگر میرے بعد نکلے تو ہر شخص اپنی ذات کی طرف سے حجت کرلے اور اللہ میرا خلیفہ ہے ہر مسلمان پر دیکھو دجال نکلے گا خلہ سے جو شام اور عراق کے درمیان ہے (خلہ کہتے ہیں راہ کو) پھر فساد پھیلا دے گا بائیں طرف (ملکوں میں) اے اللہ کے بندو جمے رہنا ایمان پر کیونکہ میں تم سے اس کی ایسی صفت بیان کرتا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے بیان نہیں کی (پس اس صفت سے تم خوب اس کو پہچان لوگے) پہلے تو وہ کہے گا میں نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے پھر دوبارہ کہے گا میں تمہارا رب ہوں اور دیکھو تم اپنے رب کو مرنے تک نہیں دیکھ سکتے اور ایک بات اور ہے وہ کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اور دوسرے یہ کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان یہ لکھا ہوگا کافر۔ اس کو ہر ایک مومن (بقدر الہی) پڑھ لے گا خواہ لکھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو اور اس کا فتنہ سخت ہوگا کہ اس کے ساتھ جنت اور دوزخ ہوگی لیکن اس کی جنت دوزخ ہے اور اس کی دوزخ جنت ہے پس جو کوئی اس کی دوزخ میں ڈالا جائے گا (اور وہ سچے مومنوں کو دوزخ میں ڈالنے کا حکم دے گا) وہ اللہ سے فریاد کرے اور سورت کہف کے شروع کی آیتیں پڑھے اور وہ دوزخ اللہ کے حکم سے اس پر ٹھنڈی ہو جائے گی اور سلامتی جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ ٹھنڈی ہوگئی اور اس کا فتنہ یہ ہوگا کہ ایک گنوار دیہاتی سے کہے گا دیکھ اگر میں تیرے ماں باپ کو زندہ کروں جب تو مجھ کو اپنا رب کہے گا؟ وہ کہے گا بے شک پھر وہ شیطان دجال کے حکم سے اس کے ماں باپ کی صورت بن کر آئیں گے اور کہیں گے بیٹا اس کی اطاعت کر یہ تیرا رب ہے (معاذ اللہ یہ فتنہ اس کا یہ ہوگا کہ آدمی پر غالب ہو کر اس کو مار ڈالے گا بلکہ آری سے چیر کر اس کے دو ٹکڑے کر دے گا پھر (اپنے معتقدوں سے) کہے گا دیکھو میں اپنے اس بندے کو اب جلاتا ہوں اب بھی وہ یہ کہے گا کہ میرا رب اور کوئی ہے سوا میرے پھر اللہ تعالیٰ اس کو زندہ کر دے گا۔ اس سے دجال خبیث کہے گا تیرا رب کون ہے؟ وہ کہے گا میرا رب اللہ ہے اور تو اللہ کا دشمن ہے تو دجال ہے قسم اللہ کی آج تو مجھے خوب معلوم ہوا کہ تو دجال ہی ہے۔ ابوالحسن علی بن محمد طنافسی نے کہا (جو شیخ ہیں ابن ماجہ کے اس حدیث میں) ہم سے عبیداللہ بن ولید وصافی نے بیان کیا انہوں نے عطیہ سے روایت کی۔ انہوں نے  ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس مرد کا درجہ میری امت میں سب سے بلند ہوگا جنت میں اور ابوسعید نے کہا قسم اللہ کی ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ یہ مرد جو دجال سے ایسا مقابلہ کریں گے کوئی نہیں ہے سوائے حضرت عمر کے۔ یہاں تک کہ حضرت گزر گئے۔ محاربی نے کہا اب پھر ہم ابوامامہ کی حدیث کو جس کو ابورافع نے روایت کیا بیان کرتے ہیں (کیونکہ ابوسعید کی حدیث درمیان میں اس مرد کے ذکر پر آگئی تھی اخیر دجال کا ایک فتنہ یہ بھی ہوگا) کہ وہ آسمان کو حکم کرے گا پانی برسانے کے لئے تو پانی بر سے گا اور زمین کو حکم کرے غلہ اگانے کا وہ غلہ اگائے گی اور اس کا ایک فتنہ یہ ہوگا کہ وہ ایک قبیلے پر سے گزرے گا۔ وہ لوگ اس کو سچا کہیں گے تو وہ آسمان کو حکم کرے گا غلہ اور گھاس اگانے کا تو وہ اگ آئے گی یہاں تک ان کے جانور اسی دن شام کو نہایت موٹے اور بڑے اور کھوکھیں بھری ہوئی اور تھن دودھ سے پھولے ہوئے آئیں گے (ایک دن میں یہ سب باتیں ہو جائیں گی پانی بہت برسنا چارہ بہت پیدا ہونا جانوروں کا اس کو کھا کرتیار ہو جانا ان کے تھن دودھ سے بھر جانا معاذ اللہ کیا بڑافتنہ ہوگا)۔ غرض دنیا میں کوئی ٹکڑا زمین کا باقی نہ رہے گا جہاں دجال نہ جائے گا اور اس پر غالب نہ ہوگا سواۓ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے ان دونوں شہر میں جس راہ میں آئے گا اس کو فرشتے ملیں گے ننگی تلواریں لئے ہوئے یہاں تک کہ دجال اتر پڑے گا چھوٹی لال پہاڑی کے پاس جہاں کھاری تر زمین ختم ہوئی ہے اور مدینہ میں تین بار زلزلہ آئے گا (یعنی مدینہ اپنے لوگوں کو لے کر تین بار حرکت کرے گا) تو جو منافق مرد یا منافق عورت مدینہ میں ہوں گے وہ دجال کے پاس چلے جائیں گے اور مدینہ پلیدی کو اپنے میں سے دور کر دے گا جیسے بھٹی لوہے کا میل دور کر دیتی ہے اس دن کا نام یوم الخلاص ہوگا (یعنی چھٹکارے کا دن) ام شریک بنت ابوعکر نے عرض کیا یا رسول اللہ ! عرب کے لوگ اس دن کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عرب کے لوگ (مومن مخلصین) اس دن کم ہوں گے اور دجال کے ساتھ بے شمار لوگ ہوں گے ان کو لڑنے کی طاقت نہ ہوگی) اور ان عرب (مومنین میں سے اکثر لوگ (اس وقت) بیت المقدس میں ہوں گے انکا امام ایک نیک شخص ہوگا یا آپ کے نائب ایک روز انکا امام آگے بڑھ کر صبح کی نماز پڑھنا چاہے گا اتنے میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام صبح کے وقت اتریں گے تو یہ امام ان کو دیکھ کر الٹے پاؤں پیچھے ہٹے گا تاکہ حضرت عیسیٰ اپنا ہاتھ اس کے دونوں مونڈھوں کے درمیان رکھ دیں گے پھر اس سے کہیں گے تو ہی آگے بڑھ اور نماز پڑھا اس لئے کہ یہ نماز تیرے ہی لئے قائم ہوئی تھی (یعنی تکبیر تیری ہی امانت کی نیت سے ہوئی تھی) خیر وہ امام لوگوں کو نماز پڑھائے گا جب نماز سے فارغ ہوگا حضرت عیسیٰ (مسلمانوں سے) فرمائیں گے (جو قلعہ یا شہر میں محصور ہوں گے اور دجال ان کو گھیرے ہوگا) دروازہ قلعہ کا یا شہر کا کھول دو۔ دروازہ کھول دیا جائے گا وہاں پر دجال ہوگا ستر ہزار یہودیوں کے ساتھ جن میں سے ہر ایک کے پاس تلوار ہوگی اس کے زیور کے ساتھ اور چادر ہوگی جب دجال حضرت عیسیٰ کو دیکھے گا تو ایسا گھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا اور بھاگے گا اور حضرت عیسیٰ فرمائیں گے میری ایک مار تجھ کو کھانا ہے تو اس سے بچ نہ سکے آخر باب لد کے پاس جو مشرق کی طرف ہے اس کو پائیں گے اور اس کو قتل کریں گے پھر اللہ تعالیٰ یہودیوں کو شکست دے گا (یہود مردود دجال کے پیدا ہوتے ہی اس کے ساتھ ہو جائیں گے اور کہیں گے یہی سچا مسیح ہے جس کے آنے کا وعدہ اگلے نبیوں نے کیا تھا اور چونکہ یہود مردود حضرت عیسیٰ کے دشمن تھے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس لئے مسلمانوں کی ضد اور عداوت سے بھی اور دجال کے ساتھ ہو جائیں گے دوسری روایت میں ہے کہ اصفہان کے یہود میں سے ستر ہزار یہودی دجال کے پیرو ہو جائیں گے) خیر یہ حال ہو جائے گا کہ یہودی اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں سے جس چیز کی آڑ میں چھپے گا اس چیز کو اللہ بولنے کی طاقت دے گا پتھر ہو یا درخت یا دیوار یا جانور سو ایک درخت کے جس کو غرقد کہتے ہیں وہ ایک کانٹے دار درخت ہوتا ہے) وہ یہودیوں کا درخت ہے (یہود اس کو بہت لگاتے ہیں اور اس کی تعظیم کرتے ہیں) نہیں بولے گا تو یہ چیز (جس کی آڑ میں یہودی چھپے گا) کہے گی اے اللہ کے مسلمان بندے یہ یہودی ہے تو آ اور اس کو مار ڈال اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دجال ایک چالیس برس تک رہے گا لیکن ایک برس چھ مہینے کے برابر ہوگا اور ایک برس ایک مہینے کے برابر ہوگا اور ایک مہینہ ایک ہفتہ کے برابر اور اخیر دن دجال کے ایسے ہوں گے جیسے چنگاری اڑتی جاتی ہے (ہوا میں) تم میں سے کوئی صبح کو مدینہ کے ایک دروازے پر ہوگا پھر دوسرے دروازہ پر نہ پہنچے گا کہ شام ہو جائے گی۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم ان چھوٹے دنوں میں نماز کیونکر پڑھیں آپ نے فرمایا اندازہ سے نماز پڑھ لینا جیسے لمبے دنوں میں اندازہ کرتے ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حضرت عیسیٰ میری امت میں ایک عادل حاکم اور منصف امام ہوں گے اور صلیب کو جو نصاری لٹکائے رہتے ہیں) توڑ ڈالیں گے۔ اور سور کو مار ڈالیں گے اس کا کھانا بند کرا دیں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے (بلکہ کہیں گے کافروں سے یا مسلمان ہو جاؤ یا قتل ہونا قبول کرو اور بعضوں نے کہا جزیہ لینا اس وجہ سے بند کر دیں گے کہ کوئی فقیر نہ ہوگا۔ سب مالدار ہوں گے پھر جزیہ کن لوگوں کے واسطے لیا جائے اور بعضوں نے کہا مطلب یہ ہے کہ جزیہ مقرر کر دیں گے سب کافروں پر یعنی لڑائی موقوف ہو جائے گی اور کافر جزئیے پر راضی ہو جائیں گے اور صدقہ (زکوة لینا) موقوف کر دیں گے تو نہ بکریوں پر نہ اونٹوں پر کوئی زکوة لینے والا مقرر کریں گے اور آپس میں لوگوں کے کینہ اور بغض اٹھ جائے گا اور ہر ایک زہریلے جانور کا زہر جاتا رہے گا۔ یہاں تک کہ بچہ اپنا ہاتھ سانپ کے منہ میں دے دے گا وہ کچھ نقصان نہ پہنچائے گا اور ایک چھوٹی بچی شیر کو بھگا دے گی وہ اس کو ضرر نہ پہنچائے گا اور بھیڑ یا بکریوں میں اس طرح رہے گا جیسے کتا، جو ان میں رہتا ہے اور زمین صلح سے بھر جائے گی جیسے برتن پانی سے بھرجاتا ہے اور سب لوگوں کا کلمہ ایک ہو جائے گا سواۓ اللہ کے کسی کی پرستش نہ ہوگی (تو سب کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھیں گے) اور لڑائی اپنے سب سامان ڈال دے گی۔ یعنی ہتھیار اور آلات اتار کر رکھ دیں گے مطلب یہ ہے کہ لڑائی دنیا سے اٹھ جائے گی اور قریش کی سلطنت جاتی رہے گی اور زمین کا یہ حال ہوگا کہ جیسے چاندی کی سینی (طشت) وہ اپنا میوہ ایسے آگائے گی جیسے آدم کے عہد میں اگاتی تھی۔ (یعنی شروع زمانہ میں جب زمین میں بہت قوت تھی) یہاں تک کہ کئی آدمی انگور کے ایک خوشے پر جمع ہوں گے اور سب سیر ہو جائیں گے (اتنے بڑے انگور ہوں گے) اور کئی کئی آدمی انگور کے ایک خوشے پر جمع ہوں گے اور سب سیر ہو جائیں گے اور بیل اس قدر داموں سے بکے گا (کیونکہ لوگوں کی زراعت کی طرف توجہ ہوگی تو بیل مہنگا ہوگا) اور گھوڑا تو چند روپوں میں بکے گا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھوڑا کیوں سستا ہوگا۔ آپ نے فرمایا اس لئے کہ لڑائی کے لئے کوئی گھوڑے پر سوار نہ ہوگا پھر لوگوں نے عرض کیا بیل کیوں مہنگا ہوگا۔ آپ نے فرمایا ساری زمین میں کھیتی ہوگی اور دجال کے نکلنے سے تین برس پہلے قحط ہوگا ان تینوں سالوں میں لوگ بھوک سے سخت تکلیف اٹھائیں گے پہلے سال میں اللہ تعالیٰ یہ حکم کرے گا آسمان کو کہ دو تہائی بارش روک لے اور زمین کو یہ حکم کرے گا کہ تہائی پیداوار روک لے پھر تیسرے سال میں اللہ تعالیٰ آسمان کو یہ حکم کرے گا کہ بالکل پانی نہ برسائے ایک قطرہ بارش نہ ہوگا اور زمین کو یہ حکم ہوگا کہ ایک دانہ نہ اگائے تو گھاس تک نہ اگے گی نہ کوئی سبزی آخر گھر والا جانور (جیسے گائے بکری) تو کوئی باقی نہ رہے گا سب مرجائیں گے مگر جو اللہ چاہے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر لوگ کیسے جئیں گے اس زمانہ میں آپ نے فرمایا جو لوگ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ اور اللَّهُ أَکْبَرُ اور سُبْحَانَ اللَّهِ اور الْحَمْدُ لِلَّهِ کہیں گے ان کو کھانے کی حاجت نہ رہے گی (یہ تسبیح اور تہلیل کھانے کے قائم مقام ہوگی) حافظ ابوعبداللہ ابن ماجہ نے کہا میں نے (اپنے شیخ) ابوالحسن طنافسی سے سنا وہ کہتے تھے میں نے عبدالرحمن محاربی سے سنا وہ کہتے تھے یہ حدیث تو اس لائق ہے کہ مکتب کے استاد کو دے دی جائے وہ بچوں کو مکتب میں سکھلائے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ رَافِعٍ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ السَّيْبَانِيِّ يَحْيَی بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَانَ أَکْثَرُ خُطْبَتِهِ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ عَنْ الدَّجَّالِ وَحَذَّرَنَاهُ فَکَانَ مِنْ قَوْلِهِ أَنْ قَالَ إِنَّهُ لَمْ تَکُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ مُنْذُ ذَرَأَ اللَّهُ ذُرِّيَّةَ آدَمَ أَعْظَمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا إِلَّا حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ وَأَنَا آخِرُ الْأَنْبِيَائِ وَأَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ وَهُوَ خَارِجٌ فِيکُمْ لَا مَحَالَةَ وَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْکُمْ فَأَنَا حَجِيجٌ لِکُلِّ مُسْلِمٍ وَإِنْ يَخْرُجْ مِنْ بَعْدِي فَکُلُّ امْرِئٍ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ وَإِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ خَلَّةٍ بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ فَيَعِيثُ يَمِينًا وَيَعِيثُ شِمَالًا يَا عِبَادَ اللَّهِ فَاثْبُتُوا فَإِنِّي سَأَصِفُهُ لَکُمْ صِفَةً لَمْ يَصِفْهَا إِيَّاهُ نَبِيٌّ قَبْلِي إِنَّهُ يَبْدَأُ فَيَقُولُ أَنَا نَبِيٌّ وَلَا نَبِيَّ بَعْدِي ثُمَّ يُثَنِّي فَيَقُولُ أَنَا رَبُّکُمْ وَلَا تَرَوْنَ رَبَّکُمْ حَتَّی تَمُوتُوا وَإِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّکُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَإِنَّهُ مَکْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ کَافِرٌ يَقْرَؤُهُ کُلُّ مُؤْمِنٍ کَاتِبٍ أَوْ غَيْرِ کَاتِبٍ وَإِنَّ مِنْ فِتْنَتِهِ أَنَّ مَعَهُ جَنَّةً وَنَارًا فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ فَمَنْ ابْتُلِيَ بِنَارِهِ فَلْيَسْتَغِثْ بِاللَّهِ وَلْيَقْرَأْ فَوَاتِحَ الْکَهْفِ فَتَکُونَ عَلَيْهِ بَرْدًا وَسَلَامًا کَمَا کَانَتْ النَّارُ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَإِنَّ مِنْ فِتْنَتِهِ أَنْ يَقُولَ لِأَعْرَابِيٍّ أَرَأَيْتَ إِنْ بَعَثْتُ لَکَ أَبَاکَ وَأُمَّکَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَبُّکَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيَتَمَثَّلُ لَهُ شَيْطَانَانِ فِي صُورَةِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَيَقُولَانِ يَا بُنَيَّ اتَّبِعْهُ فَإِنَّهُ رَبُّکَ وَإِنَّ مِنْ فِتْنَتِهِ أَنْ يُسَلَّطَ عَلَی نَفْسٍ وَاحِدَةٍ فَيَقْتُلَهَا وَيَنْشُرَهَا بِالْمِنْشَارِ حَتَّی يُلْقَی شِقَّتَيْنِ ثُمَّ يَقُولَ انْظُرُوا إِلَی عَبْدِي هَذَا فَإِنِّي أَبْعَثُهُ الْآنَ ثُمَّ يَزْعُمُ أَنَّ لَهُ رَبًّا غَيْرِي فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ وَيَقُولُ لَهُ الْخَبِيثُ مَنْ رَبُّکَ فَيَقُولُ رَبِّيَ اللَّهُ وَأَنْتَ عَدُوُّ اللَّهِ أَنْتَ الدَّجَّالُ وَاللَّهِ مَا کُنْتُ بَعْدُ أَشَدَّ بَصِيرَةً بِکَ مِنِّي الْيَوْمَ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الطَّنَافِسِيُّ فَحَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِکَ الرَّجُلُ أَرْفَعُ أُمَّتِي دَرَجَةً فِي الْجَنَّةِ قَالَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَاللَّهِ مَا کُنَّا نُرَی ذَلِکَ الرَّجُلَ إِلَّا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَتَّی مَضَی لِسَبِيلِهِ قَالَ الْمُحَارِبِيُّ ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَی حَدِيثِ أَبِي رَافِعٍ قَالَ وَإِنَّ مِنْ فِتْنَتِهِ أَنْ يَأْمُرَ السَّمَائَ أَنْ تُمْطِرَ فَتُمْطِرَ وَيَأْمُرَ الْأَرْضَ أَنْ تُنْبِتَ فَتُنْبِتَ وَإِنَّ مِنْ فِتْنَتِهِ أَنْ يَمُرَّ بِالْحَيِّ فَيُکَذِّبُونَهُ فَلَا تَبْقَی لَهُمْ سَائِمَةٌ إِلَّا هَلَکَتْ وَإِنَّ مِنْ فِتْنَتِهِ أَنْ يَمُرَّ بِالْحَيِّ فَيُصَدِّقُونَهُ فَيَأْمُرَ السَّمَائَ أَنْ تُمْطِرَ فَتُمْطِرَ وَيَأْمُرَ الْأَرْضَ أَنْ تُنْبِتَ فَتُنْبِتَ حَتَّی تَرُوحَ مَوَاشِيهِمْ مِنْ يَوْمِهِمْ ذَلِکَ أَسْمَنَ مَا کَانَتْ وَأَعْظَمَهُ وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ وَأَدَرَّهُ ضُرُوعًا وَإِنَّهُ لَا يَبْقَی شَيْئٌ مِنْ الْأَرْضِ إِلَّا وَطِئَهُ وَظَهَرَ عَلَيْهِ إِلَّا مَکَّةَ وَالْمَدِينَةَ لَا يَأْتِيهِمَا مِنْ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِهِمَا إِلَّا لَقِيَتْهُ الْمَلَائِکَةُ بِالسُّيُوفِ صَلْتَةً حَتَّی يَنْزِلَ عِنْدَ الظُّرَيْبِ الْأَحْمَرِ عِنْدَ مُنْقَطَعِ السَّبَخَةِ فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ فَلَا يَبْقَی مُنَافِقٌ وَلَا مُنَافِقَةٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَيْهِ فَتَنْفِي الْخَبَثَ مِنْهَا کَمَا يَنْفِي الْکِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ وَيُدْعَی ذَلِکَ الْيَوْمُ يَوْمَ الْخَلَاصِ فَقَالَتْ أُمُّ شَرِيکٍ بِنْتُ أَبِي الْعَکَرِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَالَ هُمْ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ وَجُلُّهُمْ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ وَإِمَامُهُمْ رَجُلٌ صَالِحٌ فَبَيْنَمَا إِمَامُهُمْ قَدْ تَقَدَّمَ يُصَلِّي بِهِمْ الصُّبْحَ إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِمْ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ الصُّبْحَ فَرَجَعَ ذَلِکَ الْإِمَامُ يَنْکُصُ يَمْشِي الْقَهْقَرَی لِيَتَقَدَّمَ عِيسَی يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَيَضَعُ عِيسَی يَدَهُ بَيْنَ کَتِفَيْهِ ثُمَّ يَقُولُ لَهُ تَقَدَّمْ فَصَلِّ فَإِنَّهَا لَکَ أُقِيمَتْ فَيُصَلِّي بِهِمْ إِمَامُهُمْ فَإِذَا انْصَرَفَ قَالَ عِيسَی عَلَيْهِ السَّلَام افْتَحُوا الْبَابَ فَيُفْتَحُ وَوَرَائَهُ الدَّجَّالُ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ يَهُودِيٍّ کُلُّهُمْ ذُو سَيْفٍ مُحَلًّی وَسَاجٍ فَإِذَا نَظَرَ إِلَيْهِ الدَّجَّالُ ذَابَ کَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَائِ وَيَنْطَلِقُ هَارِبًا وَيَقُولُ عِيسَی عَلَيْهِ السَّلَام إِنَّ لِي فِيکَ ضَرْبَةً لَنْ تَسْبِقَنِي بِهَا فَيُدْرِکُهُ عِنْدَ بَابِ اللُّدِّ الشَّرْقِيِّ فَيَقْتُلُهُ فَيَهْزِمُ اللَّهُ الْيَهُودَ فَلَا يَبْقَی شَيْئٌ مِمَّا خَلَقَ اللَّهُ يَتَوَارَی بِهِ يَهُودِيٌّ إِلَّا أَنْطَقَ اللَّهُ ذَلِکَ الشَّيْئَ لَا حَجَرَ وَلَا شَجَرَ وَلَا حَائِطَ وَلَا دَابَّةَ إِلَّا الْغَرْقَدَةَ فَإِنَّهَا مِنْ شَجَرِهِمْ لَا تَنْطِقُ إِلَّا قَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ الْمُسْلِمَ هَذَا يَهُودِيٌّ فَتَعَالَ اقْتُلْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ أَيَّامَهُ أَرْبَعُونَ سَنَةً السَّنَةُ کَنِصْفِ السَّنَةِ وَالسَّنَةُ کَالشَّهْرِ وَالشَّهْرُ کَالْجُمُعَةِ وَآخِرُ أَيَّامِهِ کَالشَّرَرَةِ يُصْبِحُ أَحَدُکُمْ عَلَی بَابِ الْمَدِينَةِ فَلَا يَبْلُغُ بَابَهَا الْآخَرَ حَتَّی يُمْسِيَ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ نُصَلِّي فِي تِلْکَ الْأَيَّامِ الْقِصَارِ قَالَ تَقْدُرُونَ فِيهَا الصَّلَاةَ کَمَا تَقْدُرُونَهَا فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ الطِّوَالِ ثُمَّ صَلُّوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَکُونُ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فِي أُمَّتِي حَکَمًا عَدْلًا وَإِمَامًا مُقْسِطًا يَدُقُّ الصَّلِيبَ وَيَذْبَحُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيَتْرُکُ الصَّدَقَةَ فَلَا يُسْعَی عَلَی شَاةٍ وَلَا بَعِيرٍ وَتُرْفَعُ الشَّحْنَائُ وَالتَّبَاغُضُ وَتُنْزَعُ حُمَةُ کُلِّ ذَاتِ حُمَةٍ حَتَّی يُدْخِلَ الْوَلِيدُ يَدَهُ فِي فِي الْحَيَّةِ فَلَا تَضُرَّهُ وَتُفِرَّ الْوَلِيدَةُ الْأَسَدَ فَلَا يَضُرُّهَا وَيَکُونَ الذِّئْبُ فِي الْغَنَمِ کَأَنَّهُ کَلْبُهَا وَتُمْلَأُ الْأَرْضُ مِنْ السِّلْمِ کَمَا يُمْلَأُ الْإِنَائُ مِنْ الْمَائِ وَتَکُونُ الْکَلِمَةُ وَاحِدَةً فَلَا يُعْبَدُ إِلَّا اللَّهُ وَتَضَعُ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا وَتُسْلَبُ قُرَيْشٌ مُلْکَهَا وَتَکُونُ الْأَرْضُ کَفَاثُورِ الْفِضَّةِ تُنْبِتُ نَبَاتَهَا بِعَهْدِ آدَمَ حَتَّی يَجْتَمِعَ النَّفَرُ عَلَی الْقِطْفِ مِنْ الْعِنَبِ فَيُشْبِعَهُمْ وَيَجْتَمِعَ النَّفَرُ عَلَی الرُّمَّانَةِ فَتُشْبِعَهُمْ وَيَکُونَ الثَّوْرُ بِکَذَا وَکَذَا مِنْ الْمَالِ وَتَکُونَ الْفَرَسُ بِالدُّرَيْهِمَاتِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا يُرْخِصُ الْفَرَسَ قَالَ لَا تُرْکَبُ لِحَرْبٍ أَبَدًا قِيلَ لَهُ فَمَا يُغْلِي الثَّوْرَ قَالَ تُحْرَثُ الْأَرْضُ کُلُّهَا وَإِنَّ قَبْلَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ ثَلَاثَ سَنَوَاتٍ شِدَادٍ يُصِيبُ النَّاسَ فِيهَا جُوعٌ شَدِيدٌ يَأْمُرُ اللَّهُ السَّمَائَ فِي السَّنَةِ الْأُولَی أَنْ تَحْبِسَ ثُلُثَ مَطَرِهَا وَيَأْمُرُ الْأَرْضَ فَتَحْبِسُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا ثُمَّ يَأْمُرُ السَّمَائَ فِي الثَّانِيَةِ فَتَحْبِسُ ثُلُثَيْ مَطَرِهَا وَيَأْمُرُ الْأَرْضَ فَتَحْبِسُ ثُلُثَيْ نَبَاتِهَا ثُمَّ يَأْمُرُ اللَّهُ السَّمَائَ فِي السَّنَةِ الثَّالِثَةِ فَتَحْبِسُ مَطَرَهَا کُلَّهُ فَلَا تُقْطِرُ قَطْرَةً وَيَأْمُرُ الْأَرْضَ فَتَحْبِسُ نَبَاتَهَا کُلَّهُ فَلَا تُنْبِتُ خَضْرَائَ فَلَا تَبْقَی ذَاتُ ظِلْفٍ إِلَّا هَلَکَتْ إِلَّا مَا شَائَ اللَّهُ قِيلَ فَمَا يُعِيشُ النَّاسُ فِي ذَلِکَ الزَّمَانِ قَالَ التَّهْلِيلُ وَالتَّکْبِيرُ وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّحْمِيدُ وَيُجْرَی ذَلِکَ عَلَيْهِمْ مُجْرَی الطَّعَامِ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ سَمِعْت أَبَا الْحَسَنِ الطَّنَافِسِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيَّ يَقُولُ يَنْبَغِي أَنْ يُدْفَعَ هَذَا الْحَدِيثُ إِلَی الْمُؤَدِّبِ حَتَّی يُعَلِّمَهُ الصِّبْيَانَ فِي الْکُتَّابِ

……………..

سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 958    حدیث متواتر حدیث مرفوع        مکررات  15   متفق علیہ 10

 ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، زہری، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ بن مریم اتریں گے اور وہ عادل حاکم منصف امام ہوں گے اور صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور سور کو قتل کریں گے اور جزیہ کو معاف کر دیں گے اور مال کو بہادیں گے لوگوں پر (بے شمار دیں گے یہاں تک کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا)۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی يَنْزِلَ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ حَکَمًا مُقْسِطًا وَإِمَامًا عَدْلًا فَيَکْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّی لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ

………………

سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 961         حدیث مرفوع      مکررات  7   متفق علیہ 1

 محمد بن بشار، یزید بن ہارون، عوام بن حوشب، جبلہ بن سحیم، مؤثر بن عفازہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جس شب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ملاقات کی حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے ان سب نے قیامت کا ذکر کیا تو حضرت ابراہیم سے سب نے پوچھا (یہ جان کر کہ وہ سب میں بزرگ ہیں ان کو ضرور علم ہوگا) لیکن ان کو کچھ علم نہ تھاقیامت کا پھر سب نے حضرت موسیٰ سے پوچھا ان کو بھی علم نہ تھا۔ آخر حضرت عیسیٰ سے پوچھا انہوں نے کہا مجھ سے وعدہ ہوا ہے قیامت سے کچھ پہلے کا (یعنی قیامت کے قریب دنیا میں جانے کا) لیکن قیامت کاٹھیک وقت وہ تو کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ تعالیٰ کے پھر بیان کیا انہوں نے دجال کے نکلنے کا حال اور کہا میں اتروں گا اور اس کو قتل کروں گا پھر لوگ اپنے اپنے ملکوں کو لوٹ جائیں گے اتنے میں یاجوج اور ماجوج ان کے سامنے آئیں گے اور ہر بلندی سے وہ چڑھ دوڑیں گے جس پانی پر وہ گزریں گے اس کو پی ڈالیں گے اور ہر ایک چیز کو خراب کر دیں گے آخر لوگ اللہ تعالیٰ سے گڑگڑائیں گے عاجزی سے (انکو دفع کرنے کیلئے میں دعا مانگوں گا کہ اللہ تعالیٰ ان کو مار ڈالے (وہ مرجائیں گے) اور زمین بدبودار ہو جائے گی ان کے پاس پھر لوگ گڑگڑائیں گے اللہ کی درگاہ میں میں اللہ سے دعا کروں گا تو وہ پانی بھیجے گا جو ان کی لاشیں اٹھا کر سمندر میں بہا لے جائے گا پھر پہاڑ اکھاڑ ڈالے جائیں گے اور زمین کھینچی جائے گی اور صاف ہموار ہوگی (اس میں پہاڑ اور ٹیلے اور سمندر گڑھے وغیرہ نہیں رہیں گے) پھر مجھ سے کہا گیا جب یہ باتیں ظاہر ہوں تو قیامت لوگوں سے ایسی قریب ہوگی جیسے عورت حاملہ کا جننا اس کے گھر والے نہیں جانتے کس وقت ناگہاں وہ جنتی ہے۔ عوام بن حوشب نے کہا اس واقعہ کی تصدیق اللہ کی کتاب میں موجود ہے حَتَّی إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ) یعنی جب کھل جائیں گے یاجوج اور ماجوج اور وہ ہر بلندی سے چڑھ دوڑیں گے۔

 

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ حَدَّثَنِي جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ عَنْ مُؤْثِرِ بْنِ عَفَازَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ لَمَّا کَانَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَی وَعِيسَی فَتَذَاکَرُوا السَّاعَةَ فَبَدَئُوا بِإِبْرَاهِيمَ فَسَأَلُوهُ عَنْهَا فَلَمْ يَکُنْ عِنْدَهُ مِنْهَا عِلْمٌ ثُمَّ سَأَلُوا مُوسَی فَلَمْ يَکُنْ عِنْدَهُ مِنْهَا عِلْمٌ فَرُدَّ الْحَدِيثُ إِلَی عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ فَقَالَ قَدْ عُهِدَ إِلَيَّ فِيمَا دُونَ وَجْبَتِهَا فَأَمَّا وَجْبَتُهَا فَلَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ فَذَکَرَ خُرُوجَ الدَّجَّالِ قَالَ فَأَنْزِلُ فَأَقْتُلُهُ فَيَرْجِعُ النَّاسُ إِلَی بِلَادِهِمْ فَيَسْتَقْبِلُهُمْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ فَلَا يَمُرُّونَ بِمَائٍ إِلَّا شَرِبُوهُ وَلَا بِشَيْئٍ إِلَّا أَفْسَدُوهُ فَيَجْأَرُونَ إِلَی اللَّهِ فَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يُمِيتَهُمْ فَتَنْتُنُ الْأَرْضُ مِنْ رِيحِهِمْ فَيَجْأَرُونَ إِلَی اللَّهِ فَأَدْعُو اللَّهَ فَيُرْسِلُ السَّمَائَ بِالْمَائِ فَيَحْمِلُهُمْ فَيُلْقِيهِمْ فِي الْبَحْرِ ثُمَّ تُنْسَفُ الْجِبَالُ وَتُمَدُّ الْأَرْضُ مَدَّ الْأَدِيمِ فَعُهِدَ إِلَيَّ مَتَی کَانَ ذَلِکَ کَانَتْ السَّاعَةُ مِنْ النَّاسِ کَالْحَامِلِ الَّتِي لَا يَدْرِي أَهْلُهَا مَتَی تَفْجَؤُهُمْ بِوِلَادَتِهَا قَالَ الْعَوَّامُ وَوُجِدَ تَصْدِيقُ ذَلِکَ فِي کِتَابِ اللَّهِ تَعَالَی حَتَّی إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ

It was narrated that 'Abdullah bin Mas'ud said: "On the night on which the Messenger of Allah P.B.U.H was taken on the Night Journey (Isra'), he met Ibrahim, Musa and 'Eisa, and they discussed the Hour. They started with Ibrahim, and asked him about it, but he did not have any knowledge of it. Then they asked Musa, and he did not have any knowledge of it. Then they asked 'Eisa bin Maryam, and he said: 'I have been assigned to some tasks before it happens.' As for as when it will take place, no one knows that except Allah. Then he mentioned Dajjal and said: 'I will descend and kill him, then the people will return to their own lands and will be confronted with Gog and Magog people, who will: "swoop down from every mound."They will not pass by any water but they will drink it, (and they will not pass) by anything but they will spoil it. They (the people) will beseech Allah, and I will pray to Allah to kill them. The earth will be filled with their stench and (the people) will beseech Allah and I will pray to Allah, then the sky will send down rain that will carry them and through them in the sea.Then the mountains will turn dust and the earth will be stretched out like a hide. I have been promised that when that the Hour will come upon the peoples like a pregnant woman whose family does not know when she will suddenly give birth.” (One of the narrators) ‘Awwβm said: Confirmation of that is found in the Book of Allah, where Allah says: “Until, when Gog and Magog people are let loose (from their bather), and they swoop down from every mound.” (Sahih)

……………………..

مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 150           حدیث متواتر حدیث مرفوع       

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام منصف حکمران کے طور پر نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ کو موقوف کردیں گے اور مال پانی کی طرح بہائیں گے یہاں تک کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔

 

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا يَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ

………………..

مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 153         حدیث مرفوع       

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے ایسا ضرور ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقام فج الروحاء سے حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام باندھیں گے۔

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَنْظَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَيُهِلَّنَّ ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ لَيَثْنِيَنَّهُمَا

………………..

 

مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 741           حدیث متواتر حدیث مرفوع       

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے نماز قائم کریں گے جزیہ کو موقوف کردیں گے اور مال پانی کی طرح بہائیں گے یہاں تک کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا اور روحاء میں پڑاؤ کر کے وہاں سے حج یا عمرے یا دونوں کا احرام باندھیں گے پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی اہل کتاب میں سے کوئی آدمی بھی ایسا نہیں ہے جو ان کی وفات سے قبل ان پر ایمان نہ لے آئے اور وہ قیامت کے دن ان سب پر گواہ ہوں گے حنظلہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یومن کا فاعل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قرار دیتے ہیں اب یہ مجھے معلوم نہیں کہ یہ مکمل حدیث ہے یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَنْظَلَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَمْحُو الصَّلِيبَ وَتُجْمَعُ لَهُ الصَّلَاةُ وَيُعْطَى الْمَالُ حَتَّى لَا يُقْبَلَ وَيَضَعُ الْخَرَاجَ وَيَنْزِلُ الرَّوْحَاءَ فَيَحُجُّ مِنْهَا أَوْ يَعْتَمِرُ أَوْ يَجْمَعُهُمَا قَالَ وَتَلَا أَبُو هُرَيْرَةَ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا فَزَعَمَ حَنْظَلَةُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ يُؤْمِنُ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ عِيسَى فَلَا أَدْرِي هَذَا كُلُّهُ حَدِيثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ شَيْءٌ قَالَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ

………………………..

مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 2438         حدیث مرفوع      مکررات  13   متفق علیہ 5

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام انبیاء کرام علیہم السلام علاتی بھائیوں (جن کا باپ ایک ہو مائیں مختلف ہوں ) کی طرح ہیں ان سب کی مائیں مختلف اور دین ایک ہے اور میں تمام لوگوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں' اور عنقریب وہ زمین پر نزول بھی فرمائیں گے اس لئے تم جب انہیں دیکھنا تو مندرجہ ذیل علامات سے انہیں پہچان لینا۔ وہ درمیانے قد کے آدمی ہوں گے سرخ و سفید رنگ ہوگا گیروے رنگے ہوئے دو کپڑے ان کے جسم پر ہوں گے ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپکتے ہوئے محسوس ہوں گے گوکہ انہیں پانی کی تری بھی نہ پہنچی ہو پھر وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کر دیں گے جزیہ موقوف کر دیں گے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں گے ان کے زمانے میں اللہ اسلام کے علاوہ تمام ادیان کو مٹا دے گا اور ان ہی کے زمانے میں مسیح دجال کو ہلاک کروائے گا اور روئے زمین پر امن و امان قائم ہو جائے گا حتی کہ سانپ اونٹ کے ساتھ چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑئیے بکریوں کے ساتھ ایک گھاٹ سے سیراب ہوں گے اور بچے سانپوں سے کھیلتے ہوں گے اور وہ سانپ انہیں نقصان نہ پہنچائیں گے اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک زمین پر رہ کر فوت ہوجائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ ادا کریں گے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ دِينُهُمْ وَاحِدٌ وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ نَازِلٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَاعْرِفُوهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ مَرْبُوعٌ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ سَبْطٌ كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ وَإِنْ لَمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ بَيْنَ مُمَصَّرَتَيْنِ فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيُعَطِّلُ الْمِلَلَ حَتَّى يُهْلِكَ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمِلَلَ كُلَّهَا غَيْرَ الْإِسْلَامِ وَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ الْكَذَّابَ وَتَقَعُ الْأَمَنَةُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى تَرْتَعَ الْإِبِلُ مَعَ الْأُسْدِ جَمِيعًا وَالنُّمُورُ مَعَ الْبَقَرِ وَالذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ وَيَلْعَبَ الصِّبْيَانُ وَالْغِلْمَانُ بِالْحَيَّاتِ لَا يَضُرُّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَيَمْكُثُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ثُمَّ يُتَوَفَّى فَيُصَلِّيَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ وَيَدْفِنُونَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْأَنْبِيَاءُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ حَتَّى يُهْلَكَ فِي زَمَانِهِ مَسِيحُ الضَّلَالَةِ الْأَعْوَرُ الْكَذَّابُ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ آدَمَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

……………………..

 

مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 3050   حدیث متواتر حدیث مرفوع         مکررات  52   متفق علیہ 10

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت عیسیٰ علیہ السلام عادل امام اور منصف حکمران بن کر نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ موقوف کردیں گے اور تلواریں درانتیاں بنالی جائیں گی ہر ڈنک والی چیز کا ڈنک ختم ہوجائے گا آسمان اپنارزق اتارے گا زمین اپنی برکت اگلے گی حتیٰ کے بچے سانپوں سے کھلیتے ہوں گے اور وہ سانپ انہیں نقصان نہ پہنچائیں گے بھیڑ یا بکری کی حفاظت کرے گا اور اسے نقصان نہ پہنچائے گا اور شیر گائے کی دیکھ بھال کرے گا اور اسے نقصان نہ پہنچائے گا۔

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ إِمَامًا عَادِلًا وَحَكَمًا مُقْسِطًا فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيُرْجِعُ السَّلْمَ وَيَتَّخِذُ السُّيُوفَ مَنَاجِلَ وَتَذْهَبُ حُمَةُ كُلِّ ذَاتِ حُمَةٍ وَتُنْزِلُ السَّمَاءُ رِزْقَهَا وَتُخْرِجُ الْأَرْضُ بَرَكَتَهَا حَتَّى يَلْعَبَ الصَّبِيُّ بِالثُّعْبَانِ فَلَا يَضُرُّهُ وَيُرَاعِي الْغَنَمَ الذِّئْبُ فَلَا يَضُرُّهَا وَيُرَاعِي الْأَسَدُ الْبَقَرَ فَلَا يَضُرُّهَا

………………..

مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 3180         حدیث متواتر حدیث مرفوع       

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک منصف حکمران کے طور پر نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ کو موقوف کردیں گے اونٹنیاں پھرتی پھریں گی لیکن کوئی ان کی طرف نہ بڑھے گا کینہ بغض اور حسد دور ہوجائے گا اور لوگوں کو مال کی طرف بلایا جائے گا لیکن اسے قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ وَحَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَنْزِلَنَّ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا وَعَدْلًا فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَلَيَقْتُلَنَّ الْخِنْزِيرَ وَلَيَضَعَنَّ الْجِزْيَةَ وَلَيَتْرُكَنَّ الْقِلَاصَ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا وَلَتَذْهَبَنَّ الشَّحْنَاءُ وَالْبَغْضَاءُ وَالتَّحَاسُدُ وَلَيُدْعَوُنَّ إِلَى الْمَالِ فَلَا يَقْبَلُهُ أَحَدٌ

………………

مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 3701         حدیث متواتر حدیث مرفوع       

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک منصف حکمران کے طور پر نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ کو موقوف کردیں گے اور مال پانی کی طرح بہائیں گے یہاں تک کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔

 

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا يَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ

……………………

مسند احمد:جلد ششم:حدیث نمبر 830     حدیث متواتر حدیث مرفوع       

 حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کا خروج اس وقت میں ہوگا جب دین میں سستی اور علم میں تنزل آجائے گا وہ چالیس راتوں میں ساری زمین پھر جائے گا جس کا ایک دن سال کے برابر دوسرا مہینے کے برابر، تیسرا ہفتے کے برابر اور باقی ایام تمہارے ہی ایام کی طرح ہوں گے اس کے پاس ایک گدھا ہو گا جس پر وہ سواری کرے گا اور جس کے دونوں کانوں کے درمیان چوڑائی چالیس گز کے برابر ہو گی اور وہ لوگوں سے کہے گا کہ میں تمہارا رب ہی ہوں حالانکہ وہ کانا ہوگ ا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان حروف تہجی سے کافر لکھا ہوا ہو گا جسے ہر مسلمان خواہ لکھنا پڑھناجانتاہوں یا نہ پڑھ لے گا وہ مدینہ اور مکہ جنہیں اللہ نے اس پر حرام قرار دیاہے کے علاوہ ہر پانی اور گھاٹ پراترے گا اس کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ ہوں گے اس کے پیروکار کے علاوہ وہ تمام لوگوں اتنہائی پریشان ہوں گے اس کے ساتھ دو نہریں ہوں گی جن کی در حقیقت میں اس سے زیادہ جانتا ہوں ایک نہر کو وہ جنت اور دوسری نہر کو جہنم کہتا ہوگا جسے وہ اپنی جنت میں داخل کرے گا وہ درحقیقت جہنم ہو گی اور جسے وہ اپنی جہنم میں داخل کرے گا وہ جنت ہوگی۔اللہ اس کے ساتھ شیاطین کو بھیج دے گا جو لوگوں سے باتیں کریں گے اس کے ساتھ ایک عظیم فتنہ ہو گاوہ آسمان کو حکم دے اور لوگوں کو یوں محسوس ہو گا کہ جیسے بارش ہو ری ہے وہ ایک آدمی کو قتل کرے گا پھر لوگوں کی آنکھوں کے سامنے اسے دوبارہ زندہ کرے گا اور لوگوں سے کہے گا کہ لوگوں یہ کام کوئی ایسا شخص کر سکتا ہے جو پروردگار نہ ہو اس وقت حقیقی مسلمان بھاگ جائیں گے اور جا کر شام کے جبل دخان میں پناہ لیں گے دجال ان کا انتہائی سخت محاصرہ کرے گا اور مسلمان انتہائی پریشان ہوں گے ۔ پھر حضرت عیسی کا نزول ہوگا اور وہ سحری کےوقت لوگوں کو پکار کر کہیں گے لوگو تمہیں اس کذاب خبیث کی طرف نکلنے سے کس چیز نے روک رکھا ہے لوگ کہیں گے یہ کوئی جن معلوم ہوتا ہے لیکن نکل کر دیکھیں گے تو وہ حضرت عیسی ہوں گے نماز کھڑی ہوگی اور ان سے کہا جائے گا کہ روح آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں وہ فرمائیں گے تمہارے امام ہی کو آگے بڑھ کر نماز پڑھانی چاہیے نماز فجر کے بعد وہ دجال کی طرف نکلیں گے جب وہ کذاب حضرت عیسی کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے حضرت عیسی بڑھ کر اسے قتل کریں گے اور اس وقت وہ شجر اور حجر پکار اٹھیں گے اے روح اللہ یہ یہودی یہاں چھپا ہوا ہے چنانچہ وہ دجال کے کسی پیروکار کو نہیں چھوڑیں گے اور سب کو قتل کردیں گے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي خَفْقَةٍ مِنْ الدِّينِ وَإِدْبَارٍ مِنْ الْعِلْمِ فَلَهُ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً يَسِيحُهَا فِي الْأَرْضِ الْيَوْمُ مِنْهَا كَالسَّنَةِ وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالشَّهْرِ وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالْجُمُعَةِ ثُمَّ سَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ هَذِهِ وَلَهُ حِمَارٌ يَرْكَبُهُ عَرْضُ مَا بَيْنَ أُذُنَيْهِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا فَيَقُولُ لِلنَّاسِ أَنَا رَبُّكُمْ وَهُوَ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ك ف ر مُهَجَّاةٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٌ وَغَيْرُ كَاتِبٍ يَرِدُ كُلَّ مَاءٍ وَمَنْهَلٍ إِلَّا الْمَدِينَةَ وَمَكَّةَ حَرَّمَهُمَا اللَّهُ عَلَيْهِ وَقَامَتْ الْمَلَائِكَةُ بِأَبْوَابِهَا وَمَعَهُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ وَالنَّاسُ فِي جَهْدٍ إِلَّا مَنْ تَبِعَهُ وَمَعَهُ نَهْرَانِ أَنَا أَعْلَمُ بِهِمَا مِنْهُ نَهَرٌ يَقُولُ الْجَنَّةُ وَنَهَرٌ يَقُولُ النَّارُ فَمَنْ أُدْخِلَ الَّذِي يُسَمِّيهِ الْجَنَّةَ فَهُوَ النَّارُ وَمَنْ أُدْخِلَ الَّذِي يُسَمِّيهِ النَّارَ فَهُوَ الْجَنَّةُ قَالَ وَيَبْعَثُ اللَّهُ مَعَهُ شَيَاطِينَ تُكَلِّمُ النَّاسَ وَمَعَهُ فِتْنَةٌ عَظِيمَةٌ يَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ وَيَقْتُلُ نَفْسًا ثُمَّ يُحْيِيهَا فِيمَا يَرَى النَّاسُ لَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهَا مِنْ النَّاسِ وَيَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ هَلْ يَفْعَلُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَيَفِرُّ الْمُسْلِمُونَ إِلَى جَبَلِ الدُّخَانِ بِالشَّامِ فَيَأْتِيهِمْ فَيُحَاصِرُهُمْ فَيَشْتَدُّ حِصَارُهُمْ وَيُجْهِدُهُمْ جَهْدًا شَدِيدًا ثُمَّ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَيُنَادِي مِنْ السَّحَرِ فَيَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَخْرُجُوا إِلَى الْكَذَّابِ الْخَبِيثِ فَيَقُولُونَ هَذَا رَجُلٌ جِنِّيٌّ فَيَنْطَلِقُونَ فَإِذَا هُمْ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتُقَامُ الصَّلَاةُ فَيُقَالُ لَهُ تَقَدَّمْ يَا رُوحَ اللَّهِ فَيَقُولُ لِيَتَقَدَّمْ إِمَامُكُمْ فَلْيُصَلِّ بِكُمْ فَإِذَا صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ خَرَجُوا إِلَيْهِ قَالَ فَحِينَ يَرَى الْكَذَّابُ يَنْمَاثُ كَمَا يَنْمَاثُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ فَيَمْشِي إِلَيْهِ فَيَقْتُلُهُ حَتَّى إِنَّ الشَّجَرَةَ وَالْحَجَرَ يُنَادِي يَا رُوحَ اللَّهِ هَذَا يَهُودِيٌّ فَلَا يَتْرُكُ مِمَّنْ كَانَ يَتْبَعُهُ أَحَدًا إِلَّا قَتَلَهُ

…………..

مسند احمد:جلد ششم:حدیث نمبر 1962   حدیث متواتر حدیث مرفوع         مکررات  15   متفق علیہ 4

 حضرت حذیفہ بن اسید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بالاخانے میں تھے اور نیچے ہم لوگ قیامت کا تذکرہ کررہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف جھانک کر دیکھا اور پوچھا کہ تم کیا مذاکرات کر رہے ہو ہم نے عرض کیا قیامت کا تذکرہ کر رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دس علامات نہ دیکھ لو دھواں ، دجال، دابۃ الارض سورج کا مغرب سے طلوع ہونا حضرت عیسی کا نزول یاجوج ماجوج کا خروج اور زمین میں دھنسنے کے تین حادثات جن میں سے ایک مشرق میں پیش آئے گا ایک مغرب میں اور ایک جزیرہ عرب میں اور سب سے آخر میں ایک آگ ہوگی جو قعر عدن کی جانب سے نکلے گی اور لوگوں کو گھیر کر شام میں جمع کردے گی لوگ جہاں پڑاؤ کریں گے وہ بھی ان کے ساتھ پڑاؤ کرے گی اور لوگ جہاں قیلولہ کریں گے وہ یہیں قیلولہ کرے گی۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فُرَاتٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَةٍ وَنَحْنُ تَحْتَهَا نَتَحَدَّثُ قَالَ فَأَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا تَذْكُرُونَ قَالُوا السَّاعَةَ قَالَ إِنَّ السَّاعَةَ لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْنَ عَشْرَ آيَاتٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَالدُّخَانُ وَالدَّجَّالُ وَالدَّابَّةُ وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنٍ تُرَحِّلُ النَّاسَ فَقَالَ شُعْبَةُ سَمِعْتُهُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ تَنْزِلُ مَعَهُمْ حَيْثُ نَزَلُوا وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا قَالَ شُعْبَةُ وَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ رَجُلٌ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ لَمْ يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَقَالَ الْآخَرُ رِيحٌ تُلْقِيهِمْ فِي الْبَحْرِ

……………………

مسند احمد:جلد ہفتم:حدیث نمبر 763    حدیث متواتر حدیث مرفوع    مکررات  11   متفق علیہ 3

 حضرت نواس بن سمعان کلابی سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن دجال کا بیان کیا تو اس کی ذلت بھی بیان کی ( کہ وہ کانا ہے اور اللہ کے نزدیک ذلیل ہے) اور اس کی بڑائی بھی بیان کی (کہ اس کا فتنہ سخت ہے اور وہ عادت کے خلاف باتیں دکھلا دے گا) یہاں تک کہ ہم سمجھے کہ وہ ان کھجوروں میں ہے ( یعنی ایسا قریب ہے گویا حاضر ہے یہ آپ کے بیان کا اثر اور صحابہ کے ایمان کا سبب تھا) جب ہم لوٹ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے (یعنی دوسرے وقت) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے ڈر کا اثر ہم میں پایا ( ہمارے چہروں پر گھبراہٹ اور خوف سے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہارا کیا حال ہے؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا اس کی ذلت بھی بیان کی اور اس کی عظمت بھی بیان کی یہاں تک کہ ہم سمجھے کہ وہ انہی کھجور کے درختوں میں ہے۔ آپ صلی الہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال کے سوا اوروں کا مجھے زیادہ ڈر ہے تم پر اور دجال اگر میری موجودگی میں نکلا تو میں اس سے حجت کروں گا تمہاری طرف سے ( تم الگ رہو گے) اور اگر اس وقت نکلے جب میں تم میں نہ ہوں (بلکہ میری وفات ہو جائے) تو ہر ایک شخص اپنی حجت آپ کر لے اور اللہ میرا خلیفہ ہے ہر مسلمان پر۔ دیکھو! دجال جوان ہے اس کے بال بہت گھنگھریالے ہیں اس کی آنکھ ابھری ہوئی ہے، دیکھو دجال خلسہ سے نکلے گا جو شام اور عراق کے درمیان (ایک راہ راہ) ہے اور فساد پھیلاتا پھرے گا دائیں طرف اور بائیں طرف ملکوں میں اے اللہ کے بندوں مضبوط رہنا ایمان پر ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کتنے دنوں تک زمین پر رہے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چالیس دن تک جن میں ایک دن سال بھر کا ہوگا اور ایک دن ایک مہینے کا اور ایک دن ایک ہفتے کا اور باقی دن تمہارے ان دنوں کی طرح ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم! وہ دن جو ایک برس کا ہوگا کیا اس میں ہم کو ایک دن کی (پانچ نمازیں) کافی ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اندازہ کر کے نماز پڑھ لو، ہم نے عرض کیا، وہ زمین میں کس قدر جلد چلے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی مثال بارش کی سی ہے جو ہوا کے بعد آتی ہے، وہ ایک قوم کے پاس آئے گا اور ان کو اپنی طرف بلائے گا وہ اس کی مان لیں گے اور اس پر ایمان لائیں گے (معاذ اللہ وہ الوہیت کا دعوی کرے گا) پھر وہ آسمان کو حکم دے گا ان پر پانی بر سے گا اور زمین کو حکم دے گا وہ اناج اگائے گی اور ان کے جانور شام کو آئیں گے ( چراگاہ سے لوٹ کر) ان کی کوہان خوب اونچی یعنی خوب موٹے تازے ہو کر اور ان کے تھن خوب بھرے ہوئے دودھ والے اور ان کی کوکھیں پھولی ہوں گی پھر ایک قوم کے پاس آئے گا ان کو اپنی طرف بلائے گا وہ اس کی بات نہ مانیں گے ( اس کے اللہ ہونے کو رد کر دیں گے) آخر دجال ان کے پاس سے لوٹ جائے گا صبح کو ان کا مالک قحط زدہ ہوگا اور ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہے گا۔ پھر دجال ایک کھنڈر پر سے گزرے گا اور اسے کہے گا اپنے خزانے نکال، اس کھنڈر کے سب خزانے اس کے ساتھ ہولیں گے جیسے شہد کی مکھیاں بڑی مکھی یعنی یعسوب کے ساتھ ہوتی ہیں ، پھر ایک شخص کو بلائے گا جو اچھا موٹا تازہ جوان ہوگا اور تلوار سے اس کو مارے گا۔ وہ دو ٹکڑے ہوجائے گا اور ہر ایک ٹکڑے کو دوسرے ٹکڑے سے تیر کے (گرنے کے) فاصلہ تک کر دے گا۔ پھر اس کا نام لے کر اس کو بلائے گا، وہ شخص زندہ ہو کر آئے گا اس کا منہ چمکتا ہوگا اور ہنستا ہوگا۔ خیر دجال اور لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ اتنے میں اللہ حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا اور وہ سفید مینار پر دمشق کے مشرق کی جانب اتریں گے۔ دو زرد کپڑے پہنے ہوئے (جو ورس یا زعفران میں رنگے ہوں گے) اور اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے بازو پر رکھے ہوئے، حضرت عیسی چلیں گے اور دجال کو باب لد پر پائیں گے، وہاں اس مردود کو قتل کریں گے، لوگ اس حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ وحی بھیجے گا، حضرت عیسی پر اے عیسی میں اپنے بندوں میں سے ایسے بندوں کو نکالا ہے کہ ان سے کوئی لڑ نہیں سکتا تو میرے ( مومن) بندوں کو طور پہاڑ پر لے جا اور اللہ تعالیٰ یاجوج اور ماجوج کو بھیجے گا اور جیسے اللہ نے فرمایا من کل حدب ینسلون یعنی ہر ایک ٹیلے پر سے پھسلتے ہوئے محسوس ہوں گے، حضرت عیسی اور آپ کے ساتھی اللہ کی بارگاہ میں دعا کریں گے تو اللہ یاجوج ماجوج کے لوگوں پر ایک پھوڑا بھیجے گا ( اس میں کیڑا ہوگا) ان کی گردنوں میں وہ دوسرے دن صبح کو سب مرے ہوئے ہوں گے جیسے ایک آدمی مرتا ہے اور حضرت عیسی اور آپ کے ساتھی پہاڑ سے اتریں گے اور ایک بالشت برابر جگہ نہ پائیں گے جو ان کی چکنائی، بدبو اور خون سے خالی ہو آخر وہ پھر دعا کریں گے اللہ کی جناب میں اللہ تعالیٰ کچھ پرندے بھیجے گا جن کی گردنیں بختی اونٹوں کی گردنوں کے برابر ہوں گی وہ ان کی لاشیں اٹھا کر لے جائیں گے اور جہاں اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا وہاں ڈال دیں گے پھر اللہ تعالیٰ پانی برسائے گا کوئی گھر خواہ وہ کچا ہو یا پکا اس پانی کو نہ روک سکے گا یہ پانی ان سب کو دھو ڈالے گا یہاں تک کہ زمین آئینہ کی طرح صاف ہوجائے گی پھر زمین سے کہا جائے گا اب اپنے پھل اگا اور اپنی برکت پھر لا، اس دن کئی آدمی مل کر ایک انار کھائیں گے اور سیر ہو جائیں گے اور انار کے چلکے سے سایہ کریں گے (چھتری کی طرح) اتنے بڑے بڑے انار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ دودھ میں برکت دے گا یہاں تک کہ ایک دودھ والی اونٹنی لوگوں کی کئی جماعتوں پر کافی ہوگا ایک گائے دودھ والی ایک قبیلہ کے لوگوں کو کافی ہوگی اور ایک بکری دودھ والی ایک چھوٹے قبیلے کو کافی ہوگی اور ایک بکری دودھ والی ایک چھوٹے قبیلے کو کافی ہوجائے گی لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا وہ ان کی بغلوں کے تلے اثر کرے گی اور ہر ایک مومن کی روح قبض کرے گی اور باقی لوگ گدھوں کی طرح لڑتے جھگڑتے یا جماع کرتے (اعلانیہ) رہ جائیں گے ان ہی لوگوں پر قیامت ہوگی۔

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو الْعَبَّاسِ الدِّمَشْقِيُّ بِمَكَّةَ إِمْلَاءً قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ قَاضِي حِمْصَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلَابِيَّ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالَ ذَاتَ غَدَاةٍ فَخَفَّضَ فِيهِ وَرَفَّعَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ فَلَمَّا رُحْنَا إِلَيْهِ عَرَفَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِنَا فَسَأَلْنَاهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ الْغَدَاةَ فَخَفَّضْتَ فِيهِ وَرَفَّعْتَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ قَالَ غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَيْكُمْ فَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ إِنَّهُ شَابٌّ جَعْدٌ قَطَطٌ عَيْنُهُ طَافِيَةٌ وَإِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ خِلَّةٍ بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَشِمَالًا يَا عِبَادَ اللَّهِ اثْبُتُوا قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لُبْثُهُ فِي الْأَرْضِ قَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا يَوْمٌ كَسَنَةٍ وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي هُوَ كَسَنَةٍ أَيَكْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ قَالَ لَا اقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الْأَرْضِ قَالَ كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ قَالَ فَيَمُرُّ بِالْحَيِّ فَيَدْعُوهُمْ فَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ وَالْأَرْضَ فَتُنْبِتُ وَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ وَهِيَ أَطْوَلُ مَا كَانَتْ ذُرًى وَأَمَدُّهُ خَوَاصِرَ وَأَسْبَغُهُ ضُرُوعًا وَيَمُرُّ بِالْحَيِّ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّوا عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَتَتْبَعُهُ أَمْوَالُهُمْ فَيُصْبِحُونَ مُمْحِلِينَ لَيْسَ لَهُمْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ شَيْءٌ وَيَمُرُّ بِالْخَرِبَةِ فَيَقُولُ لَهَا أَخْرِجِي كُنُوزَكِ فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ قَالَ وَيَأْمُرُ بِرَجُلٍ فَيُقْتَلُ فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جِزْلَتَيْنِ رَمْيَةَ الْغَرَضِ ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ إِلَيْهِ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ قَالَ فَبَيْنَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ فَيَتْبَعُهُ فَيُدْرِكُهُ فَيَقْتُلُهُ عِنْدَ بَابِ لُدٍّ الشَّرْقِيِّ قَالَ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام أَنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا مِنْ عِبَادِي لَا يَدَانِ لَكَ بِقِتَالِهِمْ فَحَوِّزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ فَيَبْعَثُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَهُمْ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ فَيَرْغَبُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُرْسِلُ عَلَيْهِمْ نَغَفًا فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ فَيَهْبِطُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ فَلَا يَجِدُونَ فِي الْأَرْضِ بَيْتًا إِلَّا قَدْ مَلَأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتِنُهُمْ فَيَرْغَبُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُرْسِلُ عَلَيْهِمْ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ ابْنُ جَابِرٍ فَحَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ السَّكْسَكِيُّ عَنْ كَعْبٍ أَوْ غَيْرِهِ قَالَ فَتَطْرَحُهُمْ بِالْمُهَبَّلِ قَالَ ابْنُ جَابِرٍ فَقُلْتُ يَا أَبَا يَزِيدَ وَأَيْنَ الْمُهَبَّلُ قَالَ مَطْلَعُ الشَّمْسِ قَالَ وَيُرْسِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَطَرًا لَا يَكُنْ مِنْهُ بَيْتُ وَبَرٍ وَلَا مَدَرٍ أَرْبَعِينَ يَوْمًا فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ حَتَّى يَتْرُكَهَا كَالزَّلَفَةِ وَيُقَالُ لِلْأَرْضِ أَنْبِتِي ثَمَرَتَكِ وَرُدِّي بَرَكَتَكِ قَالَ فَيَوْمَئِذٍ يَأْكُلُ النَّفَرُ مِنْ الرُّمَّانَةِ وَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا وَيُبَارَكُ فِي الرِّسْلِ حَتَّى أَنَّ اللَّقْحَةَ مِنْ الْإِبِلِ لَتَكْفِي الْفِئَامَ مِنْ النَّاسِ وَاللَّقْحَةَ مِنْ الْبَقَرِ تَكْفِي الْفَخِذَ وَالشَّاةَ مِنْ الْغَنَمِ تَكْفِي أَهْلَ الْبَيْتِ قَالَ فَبَيْنَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رِيحًا طَيِّبَةً تَحْتَ آبَاطِهِمْ فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُسْلِمٍ أَوْ قَالَ كُلِّ مُؤْمِنٍ وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ تَهَارُجَ الْحَمِيرِ وَعَلَيْهِمْ أَوْ قَالَ وَعَلَيْهِ تَقُومُ السَّاعَةُ


…………………..

مسند احمد:جلد ہفتم:حدیث نمبر 1020           حدیث متواتر حدیث مرفوع       

 ابو نضرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن ہم لوگ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تاکہ مصحف کا ان کے مصحف کے ساتھ تقابل کر سکیں ؟ جب جمعہ کا وقت قریب آیا تو انہوں نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے غسل کیا، پھر ہمارے پاس خوشبو لائی گئی، جو ہم نے لگالی، پھر ہم مسجد میں آکر ایک آدمی کے پاس بیٹھ گئے، اس نے ہمیں دجال کے متعلق حدیث سنانا شروع کر دیں، اسی اثناء میں حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ بھی آگئے، ہم ان کے احترام میں کھڑے ہوگئے، انہوں نے ہمیں بیٹھنے کے لئے کہا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمانوں کے تین شہر ہوں گے، ایک شہر دو سمندروں کے سنگم پر واقع ہوگا، ایک حیرہ میں اور ایک شام میں ۔ لوگوں پر تین مرتبہ خوف وہراس کے واقعات پیش آئیں گے، پھر دجال کا خروج ہوجائے گا اور وہ اہل مشرق کو شکست دے دے گا، پھر سب سے پہلے وہ اس شہر پر حملہ کرے گا جو دو سمندروں کے سنگم پر واقع ہوگا، وہاں کے لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے، ایک فرقہ تو کھڑا ہوگا اور کہے گا کہ ہم اس کے پاس جا کر دیکھتے ہیں کہ وہ ہے کیا؟ دوسرا گروہ دیہاتیوں میں جا ملے گا اور تیسرا گروہ قریب کے شہر میں منتقل ہو جائے گا، اس وقت دجال کی معیت میں ستر ہزار افراد ہوں گے جنہوں نے سبز چادریں اوڑھ رکھی ہوں گی اور اس کے اکثر پیروکار یہودی اور عورتیں ہوں گی۔ پھر وہ دوسرے شہر کا رخ کرے گا تو وہاں کے لوگ بھی اسی طرح تین گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے ( جیسا کہ ابھی گذرا) اس طرح مسلمان سمٹ کر افیق نامی گھاٹی میں جمع ہو جائیں گے، پھر وہ اپنا ایک دستہ مقابلہ کے لئے بھیجیں گے لیکن وہ سب شہید ہو جائیں گے، اس وقت مسلمان بڑی سختی کا شکار ہوں گے، انہیں شدید بھوک اور انتہائی پریشانی کا سامنا ہوگا حتی کہ ایک آدمی اپنی کمان کی تانت جلا کر اسے کھانے لگے گا۔ ابھی وہ انہی حالات میں ہوں گے کہ ایک دن صبح کے وقت ایک منادی آواز لگائے گا اے لوگو! تمہارے پاس فریاد رس آپہنچا، لوگ آپس میں کہیں گے کہ یہ تو کسی پیٹ بھرے ہوئے آدمی کی آواز ہے، اسی وقت نماز فجر کے قریب حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول ہوگا، مسلمانوں کا امیر (امام مہدی رضی اللہ عنہ) ان سے درخواست کرے گا کہ اے روح اللہ! آگے بڑھ کر نماز پڑھائیے، وہ فرمائیں گے کہ اس امت کے لوگ ہی ایک دوسرے پر امیر ہیں ، لہذا ان کا امیر ہی آگے بڑھ کر نماز پڑھائے۔ جب حضرت عیسی علیہ السلام نماز سے فارغ ہوں گے تو اپنا نیزہ لے کر دجال کی طرف روانہ ہوں گے، دجال جب انہیں دیکھے گا تو سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا، حضرت عیسی علیہ السلام اپنا نیزہ اس کی چھاتیوں کے درمیان ماریں گے، اور اسے قتل کر ڈالیں گے، اس کے پیروکار (شکست کھا جائیں گے اور اس دن کوئی چیز ایسی نہ ہوگی جو انہیں اپنے پیچھے چھپالے، حتی کہ درخت بھی کہے گا کہ اے مومن! یہ کافر ہے، اور پتھر بھی کہیں گے کہ اے مومن! یہ کافر ہے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَن عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَن أَبِي نَضْرَةَ قَالَ أَتَيْنَا عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ لِنَعْرِضَ عَلَيْهِ مُصْحَفًا لَنَا عَلَى مُصْحَفِهِ فَلَمَّا حَضَرَتْ الْجُمُعَةُ أَمَرَنَا فَاغْتَسَلْنَا ثُمَّ أُتِينَا بِطِيبٍ فَتَطَيَّبْنَا ثُمَّ جِئْنَا الْمَسْجِدَ فَجَلَسْنَا إِلَى رَجُلٍ فَحَدَّثَنَا عَنْ الدَّجَّالِ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَجَلَسْنَا فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَكُونُ لِلْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةُ أَمْصَارٍ مِصْرٌ بِمُلْتَقَى الْبَحْرَيْنِ وَمِصْرٌ بِالْحِيرَةِ وَمِصْرٌ بِالشَّامِ فَيَفْزَعُ النَّاسُ ثَلَاثَ فَزَعَاتٍ فَيَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أَعْرَاضِ النَّاسِ فَيَهْزِمُ مَنْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ فَأَوَّلُ مِصْرٍ يَرِدُهُ الْمِصْرُ الَّذِي بِمُلْتَقَى الْبَحْرَيْنِ فَيَصِيرُ أَهْلُهُ ثَلَاثَ فِرَقٍ فِرْقَةٌ تَقُولُ نُشَامُّهُ نَنْظُرُ مَا هُوَ وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بالْأَعْرَابِ وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِالْمِصْرِ الَّذِي يَلِيهِمْ وَمَعَ الدَّجَّالِ سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَيْهِمْ السِّيجَانُ وَأَكْثَرُ تَبَعِهِ الْيَهُودُ وَالنِّسَاءُ ثُمَّ يَأْتِي الْمِصْرَ الَّذِي يَلِيهِ فَيَصِيرُ أَهْلُهُ ثَلَاثَ فِرَقٍ فِرْقَةٌ تَقُولُ نُشَامُّهُ وَنَنْظُرُ مَا هُوَ وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بالْأَعْرَابِ وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِالْمِصْرِ الَّذِي يَلِيهِمْ بِغَرْبِيِّ الشَّامِ وَيَنْحَازُ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَقَبَةِ أَفِيقٍ فَيَبْعَثُونَ سَرْحًا لَهُمْ فَيُصَابُ سَرْحُهُمْ فَيَشْتَدُّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ وَتُصِيبُهُمْ مَجَاعَةٌ شَدِيدَةٌ وَجَهْدٌ شَدِيدٌ حَتَّى إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيُحْرِقُ وَتَرَ قَوْسِهِ فَيَأْكُلُهُ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ مِنْ السَّحَرِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَتَاكُمْ الْغَوْثُ ثَلَاثًا فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ إِنَّ هَذَا لَصَوْتُ رَجُلٍ شَبْعَانَ وَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَيَقُولُ لَهُ أَمِيرُهُمْ رُوحَ اللَّهِ تَقَدَّمْ صَلِّ فَيَقُولُ هَذِهِ الْأُمَّةُ أُمَرَاءُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فَيَتَقَدَّمُ أَمِيرُهُمْ فَيُصَلِّي فَإِذَا قَضَى صَلَاتَهُ أَخَذَ عِيسَى حَرْبَتَهُ فَيَذْهَبُ نَحْوَ الدَّجَّالِ فَإِذَا رَآهُ الدَّجَّالُ ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الرَّصَاصُ فَيَضَعُ حَرْبَتَهُ بَيْنَ ثَنْدُوَتِهِ فَيَقْتُلُهُ وَيَنْهَزِمُ أَصْحَابُهُ فَلَيْسَ يَوْمَئِذٍ شَيْءٌ يُوَارِي مِنْهُمْ أَحَدًا حَتَّى إِنَّ الشَّجَرَةَ لَتَقُولُ يَا مُؤْمِنُ هَذَا كَافِرٌ وَيَقُولُ الْحَجَرُ يَا مُؤْمِنُ هَذَا كَافِرٌ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَن أَبِي نَضْرَةَ قَالَ أَتَيْنَا عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ لِنَعْرِضَ عَلَيْهِ مُصْحَفًا لَنَا عَلَى مُصْحَفِهِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَلَيْسَ شَيْءٌ يَوْمَئِذٍ يَجُنُّ مِنْهُمْ أَحَدًا وَقَالَ ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الرَّصَاصُ

…………………………….

مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 366       حدیث مرفوع     

 حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کا خروج ہونے والا ہے اور وہ بائیں آنکھ سے کانا ہوگا اور اس پر ایک موٹا ناخنہ ہوگا وہ مادر زاد اندھوں اور برص کی بیماری والوں کو تندرست کردے گا اور مردوں کو زندہ کردے گا اور لوگوں سے کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں جو شخص یہ اقرار کرلے تو میرا رب ہے وہ فتنہ میں پڑ گیا اور جس نے یہ کہا میرا رب اللہ ہے وہ آخردم تک اس پر ڈٹا رہا تو وہ اس کے فتنے سے محفوظ ہوجائے گا اور اسے کسی آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا اور نہ ہی اسے کوئی عذاب ہوگا اور دجال زمین میں اس وقت تک رہے گا جب تک اللہ کو منظور ہوگا پھر مغرب کی جانب سے حضرت عیسی کا نزول ہوگا اور وہ تشریف لائیں گے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کریں گے اور ان کی ملت پر ہوں گے اور وہ دجال کو قتل کریں گے اور پھر قیامت قریب آجائے گی۔

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ وَهُوَ أَعْوَرُ عَيْنِ الشِّمَالِ عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ وَإِنَّهُ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَيُحْيِي الْمَوْتَى وَيَقُولُ لِلنَّاسِ أَنَا رَبُّكُمْ فَمَنْ قَالَ أَنْتَ رَبِّي فَقَدْ فُتِنَ وَمَنْ قَالَ رَبِّيَ اللَّهُ حَتَّى يَمُوتَ فَقَدْ عُصِمَ مِنْ فِتْنَتِهِ وَلَا فِتْنَةَ بَعْدَهُ عَلَيْهِ وَلَا عَذَابَ فَيَلْبَثُ فِي الْأَرْضِ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يَجِيءُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَام مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ مُصَدِّقًا بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى مِلَّتِهِ فَيَقْتُلُ الدَّجَّالَ ثُمَّ إِنَّمَا هُوَ قِيَامُ السَّاعَةِ

…………………….

مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 2436    حدیث مرفوع     

 حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ نے جہنم سے محفوظ رکھا ہے ایک گروہ ہندوستان میں جہاد کرے گا اور ایک گروہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوگا۔

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الْوُصَابِيِّ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَدِيٍّ الْبَهْرَانِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِي أَحْرَزَهُمْ اللَّهُ مِنْ النَّارِ عِصَابَةٌ تَغْزُو الْهِنْدَ وَعِصَابَةٌ تَكُونُ مَعَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام

………………………….

مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 4441    حدیث متواتر حدیث مرفوع       

 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے دجال کا خیال آگیا، اور رونے لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر دجال میری زندگی میں نکل آیا تو میں تمہاری اس سے کفایت کروں گا، اور اگر وہ میرے بعد نکلا تو یاد رکھو کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، اس کا خروج اصفہان کے علاقے "یہودیہ" سے ہوگا اور وہ سفر کرتا ہوا مدینہ منورہ آئے گا اور ایک جانب پڑاؤ کرے گا، اس زمانے میں مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے، اور اس کے ہر سوراخ پر دو فرشتے مقرر ہوں گے، اور مدینہ منورہ میں جو لوگ برے ہوں گے وہ نکل کر اس کے پاس چلے جائیں گے، پھر وہ شام روانہ ہو جائے گا اور فلسطین کے ایک شہر میں باب لد کے قریب پہنچے گا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو جائے گا اور وہ اسے قتل کر دیں گے اور اس کے بعد چالیس سال تک زمین میں منصف حکمران اور انصاف کرنے والے قاضی کے طور پر زندہ رہیں گے۔

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَضْرَمِيُّ بْنُ لَاحِقٍ أَنَّ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ لِي مَا يُبْكِيكِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَكَرْتُ الدَّجَّالَ فَبَكَيْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَخْرُجْ الدَّجَّالُ وَأَنَا حَيٌّ كَفَيْتُكُمُوهُ وَإِنْ يَخْرُجْ الدَّجَّالُ بَعْدِي فَإِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَإِنَّهُ يَخْرُجُ فِي يَهُودِيَّةِ أَصْبَهَانَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ فَيَنْزِلَ نَاحِيَتَهَا وَلَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكَانِ فَيَخْرُجَ إِلَيْهِ شِرَارُ أَهْلِهَا حَتَّى الشَّامِ مَدِينَةٍ بِفِلَسْطِينَ بِبَابِ لُدٍّ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ مَرَّةً حَتَّى يَأْتِيَ فِلَسْطِينَ بَابَ لُدٍّ فَيَنْزِلَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَيَقْتُلَهُ ثُمَّ يَمْكُثَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً إِمَامًا عَدْلًا وَحَكَمًا مُقْسِطًا

سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 892          حدیث مرفوع      مکررات  3  

 سہل بن تمام بن بزیع، عمران، قطان، قتادہ، ابونضرہ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مہدی مجھ سے ہوں گے روشن پیشانی اور بلند ناک والے ہوں گے زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح بھریں گے جس طرح وہ ظم و جور سے بھر دی گئی تھی اور سات سال تک حکومت کریں گے، پھر اس کے بعد حضرت عیسیٰ نازل ہوجائیں گے جن کی اقتداء میں حضرت مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دجال سے لڑیں گے۔

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ تَمَّامِ بْنِ بَزِيعٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَهْدِيُّ مِنِّي أَجْلَی الْجَبْهَةِ أَقْنَی الْأَنْفِ يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا کَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا يَمْلِکُ سَبْعَ سِنِينَ

Narrated AbuSa'id al-Khudri:

The Prophet (peace_be_upon_him) said: The Mahdi will be of my stock, and will have a broad forehead a prominent nose. He will fill the earth will equity and justice as it was filled with oppression and tyranny, and he will rule for seven years.

 

سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 893          حدیث مرفوع      مکررات  9   متفق علیہ 2

 محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام، ابوقتادہ، صالح ابوخلیل صاحب، حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک خلیفہ کی موت کے وقت لوگوں میں (اگلاخلیفہ منتخب کرنے میں) اختلاف ہوجائے گا اس دوران ایک آدمی مدینہ سے نکل کر مکہ کی طرف بھاگے گا لوگ اسے خلافت کے لیے نکالیں گے لیکن وہ اسے ناپسند کرتے ہوں گے پھر لوگ ان کے ہاتھ پر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت کریں گے پھر وہ ایک لشکر شام سے بھیجیں گے تو وہ لشکر" بیداء" کے مقام پر زمین میں دھنس جائے گا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے جب لوگ اس لشکر کو دیکھیں گے تو اہل شام کے ابدال اور اہل عراق کی جماعتیں ان کے پاس آئیں گی ان سے بیعت کریں گی پھر ایک آدمی اٹھے گا قریش میں سے جس کی ننھیال بنی کلب میں سے ہوگی وہ ان کی طرف ایک لشکر بھیجے گا تو وہ اس لشکر پر غلبہ حاصل کرلیں گے اور وہ بنوکلب کا لشکر ہوگا اور ناکامی ہو اس شخص کے لیے جو بنوکلب کے اموال غنیمت کی تقسیم کے موقع پر حاضر نہ ہو، مہدی مال غنیمت تقسیم کریں گے اور لوگوں میں ان کے نبی کی سنت کو جاری کریں گے اور اسلام پر اپنی گردن زمین پر ڈال دے گا (سارے کرہ ارض پر اسلام پھیل جائے گا) پھر اس کے بعد سات سال تک وہ زندہ رہیں گے پھر ان کا انتقال ہوجائے گا اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ بعض نے ہشام کے حوالہ سے یہ کہا کہ وہ نوسال تک زندہ رہیں گے جبکہ بعض نے کہا کہ سات سال تک رہیں گے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ صَاحِبٍ لَهُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَکُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ هَارِبًا إِلَی مَکَّةَ فَيَأْتِيهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ فَيُخْرِجُونَهُ وَهُوَ کَارِهٌ فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّکْنِ وَالْمَقَامِ وَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعْثٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَائِ بَيْنَ مَکَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَإِذَا رَأَی النَّاسُ ذَلِکَ أَتَاهُ أَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَائِبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّکْنِ وَالْمَقَامِ ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ کَلْبٌ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ بَعْثًا فَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ وَذَلِکَ بَعْثُ کَلْبٍ وَالْخَيْبَةُ لِمَنْ لَمْ يَشْهَدْ غَنِيمَةَ کَلْبٍ فَيَقْسِمُ الْمَالَ وَيَعْمَلُ فِي النَّاسِ بِسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُلْقِي الْإِسْلَامُ بِجِرَانِهِ فِي الْأَرْضِ فَيَلْبَثُ سَبْعَ سِنِينَ ثُمَّ يُتَوَفَّی وَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ قَالَ أَبُو دَاوُد قَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ هِشَامٍ تِسْعَ سِنِينَ و قَالَ بَعْضُهُمْ سَبْعَ سِنِينَ

Narrated Umm Salamah, Ummul Mu'minin:

The Prophet (peace_be_upon_him) said: Disagreement will occur at the death of a caliph and a man of the people of Medina will come flying forth to Mecca. Some of the people of Mecca will come to him, bring him out against his will and swear allegiance to him between the Corner and the Maqam. An expeditionary force will then be sent against him from Syria but will be swallowed up in the desert between Mecca and Medina. When the people see that, the eminent saints of Syria and the best people of Iraq will come to him and swear allegiance to him between the Corner and the Maqam. Then there will arise a man of Quraysh whose maternal uncles belong to Kalb and send against them an expeditionary force which will be overcome by them, and that is the expedition of Kalb. Disappointed will be the one who does not receive the booty of Kalb. He will divide the property, and will govern the people by the Sunnah of their Prophet (peace_be_upon_him) and establish Islam on Earth. He will remain seven years, then die, and the Muslims will pray over him.

……………

جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 115          حدیث مرفوع      مکررات  10  

 عبدالجبار بن علاء، عطار، سفیان بن عیینہ، عاصم، ابوزر، حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اہل بیت میں سے میرے نام کا ایک شخص دنیا کا حکمران ہوگا عاصم، ابوصالح کے واسطہ سے حضرت  ابوہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ مروی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر دنیا میں سے ایک دن ہی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اسے طویل کر دے گا یہاں تک کہ امام مہدی حکمران ہو جائیں یہ حدیث حسن صحیح ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَلِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي قَالَ عَاصِمٌ وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنْ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِکَ الْيَوْمَ حَتَّی يَلِيَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

Sayyidina Abdullah (RA) reported from the Prophet (SAW)  that he said, “If there is even a single day before Qiamah, Allah will extend that day so that a man of my house(imam mahdi), will follow to rule over the world.

…………….

جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 116          حدیث مرفوع      مکررات  3  

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، زید عمی، ابوصدیق ناجی، حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں اندیشہ ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی بدعت شروع ہو جائے پس ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری امت میں ایک مہدی آئے گا جو پانچ سات یا نوسال تک حکومت کرے گا پھر اس کے پاس ایک شخص آئے گا اور کہے گا اے مہدی مجھے دیجئے مجھے دیجئے پس وہ اسے اتنے دینار دیں گے جتنے اس میں اٹھانے کی استطاعت ہوگی یہ حدیث حسن ہے اور کئی سندوں سے ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً منقول ہے ابوصدیق کا نام بکر بن عمرو ہے انہیں بکر بن قیس بھی کہتے ہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَال سَمِعْتُ زَيْدًا الْعَمِّيَّ قَال سَمِعْتُ أَبَا الصِّدِّيقِ النَّاجِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَشِينَا أَنْ يَکُونَ بَعْدَ نَبِيِّنَا حَدَثٌ فَسَأَلْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ فِي أُمَّتِي الْمَهْدِيَّ يَخْرُجُ يَعِيشُ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ تِسْعًا زَيْدٌ الشَّاکُّ قَالَ قُلْنَا وَمَا ذَاکَ قَالَ سِنِينَ قَالَ فَيَجِيئُ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَيَقُولُ يَا مَهْدِيُّ أَعْطِنِي أَعْطِنِي قَالَ فَيَحْثِي لَهُ فِي ثَوْبِهِ مَا اسْتَطَاعَ أَنْ يَحْمِلَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيُّ اسْمُهُ بَکْرُ بْنُ عَمْرٍو وَيُقَالُ بَکْرُ بْنُ قَيْسٍ

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) narrated We were apprehensive lest innovations begin after our Prophet (SAW)  So we asked the Prophet (SAW)  (about it). He said, There will be in my ummah a Mahdi who will live five, seven or nine” the narrator Zayd was unsure (of the figure). They asked what was that and he said, “Years.” He then said, “A man will come to him and say, ‘O Mahdi, give me, give me!’ So, he will pour out for him in his garment as much as he is able to carly

………………

سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 963         حدیث مرفوع      مکررات  3  

 نصر بن علی جہضمی، محمد بن مروان عقیلی، عمارہ بن ابی حفصہ، زید عمی، ابی صدیق ناجی، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری امت میں ایک مہدی (ہدایت یافتہ پیدا) ہوں گے اگر وہ دنیا میں کم رہے تو بھی سات برس تک رہیں گے ورنہ نو برس تک رہیں گے۔ اس دور میں ایسی خوشحال ہوگی کہ اس جیسی خوشحال پہلے کبھی نہ ہوئی ہوگی زمین اس وقت خوب پھل دیگی اور ان سے بچا کر کچھ نہ رکھے گی اور اس وقت مال کے ڈھیر لگے ہوئے ہونگے ایک مرد کھڑا ہو کر عرض کرے گا اے مہدی مجھے کچھ دیجئے؟ وہ کہیں گے (جتناجی چاہے) لے لو۔

 

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ عَنْ أَبِي صِدِّيقٍ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَکُونُ فِي أُمَّتِي الْمَهْدِيُّ إِنْ قُصِرَ فَسَبْعٌ وَإِلَّا فَتِسْعٌ فَتَنْعَمُ فِيهِ أُمَّتِي نِعْمَةً لَمْ يَنْعَمُوا مِثْلَهَا قَطُّ تُؤْتَی أُکُلَهَا وَلَا تَدَّخِرُ مِنْهُمْ شَيْئًا وَالْمَالُ يَوْمَئِذٍ کُدُوسٌ فَيَقُومُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ يَا مَهْدِيُّ أَعْطِنِي فَيَقُولُ خُذْ

It was narrated f